تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 41 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 41

جلداول وو 38 تاریخ احمدیت بھارت ہدایت دیتے۔چنانچہ عبد الغفور صاحب اپنے قادیان پہنچنے کے بارے میں تحریر کرتے ہیں کہ : " قادیان پہنچنے پر ہم سب نے خدا کا شکر ادا کیا اور عصر اور ظہر کی نمازیں جمع کر کے ادا کیں۔احمد یہ بورڈنگ ہاؤس (نز دمسجد نور ) میں ہم کو چائے پیش کی گئی۔اتنے میں کیپٹن بابا شیر ولی صاحب تشریف لائے اور پوچھا کہ جو ان کیا حال ہے؟ تھک تو گئے ہوگے؟ میں نے کہا جناب ہمیں کوئی تھکاوٹ نہیں۔آپ ہمیں یہ بتلائیں کہ ہماری ڈیوٹی کہاں ہوگی؟ ظاہر ہے کہ ہم ریسٹ کرنے تو نہیں آئے۔آپ کو جہاں بھی ضرورت ہے آپ ابھی ڈیوٹی لگائیں۔کیپٹن صاحب مسکرائے اور کہا جوانو! مجھے آپ سے مل کر بڑی خوشی ہوئی۔میں آپ کے جذبات کو سمجھتا ہوں مجھے تو آپ جیسے ہی جوانوں کی ضرورت ہے۔مگر ذرا ٹھہر وتحمل سے کام لو۔کل کا دن تم ریسٹ کرو اور بازار سے کوئی ہلکا پھلکا بیگ خرید وجس میں ڈرائی راشن یا ایمونیشن رکھ سکو۔پرسوں رات آپ کی ڈیوٹی لگ جائے گی۔یہ سن کر ہمیں خوشی اور اطمینان ہوا۔21 اگست 1947 ء کو ہم بازار گئے۔ایک ایک بیگ خریدا۔25 کیپٹن شیر ولی صاحب کی زیر قیادت خدمت بجالانے والوں میں سے دونو جوانوں کا ذکر ہفت " روزہ بدر میں درج ذیل الفاظ میں تحریر ہے: ” 1947 ء کے شروع میں خاکسار کے والد محترم محمد شریف صاحب گجراتی درویش نے سیدنا حضرت مصلح موعود کی خدمت میں اپنی زندگی وقف کرنے کی درخواست بھجوائی۔دفتر کی طرف سے ارشاد موصول ہوا قادیان حاضر ہو جائیں۔چنانچہ انہوں نے اور مکرم غلام قادر صاحب درویش نے 25 / مارچ 1947 ء کو انبالہ چھاؤنی میں اپنا اپنا استعفیٰ پیش کیا اور ساتھ ہی استعفیٰ منظور ہونے تک ایک ہفتہ کی رخصت حاصل کر کے اپنے گاؤں گئے اور ایک ہفتہ قیام کے بعد یکم اپریل 1947ء کو ہر دو افراد قادیان حاضر ہو گئے۔اسی روز سے انہیں کیپٹن شیر ولی صاحب مرحوم کے ماتحت خدمت بجالانے کا حکم ہوا۔26 الغرض ایسے نوجوانوں کو خدمات بجالانے کے لئے کیپٹن شیر ولی صاحب کے سپرد کر دیا جاتا تھا۔وہ افسران بالا کی ہدایت کے مطابق انہیں مختلف مقامات کی طرف بھجواتے رہتے تھے۔اور حسب ضرورت ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونے کی بھی ہدایت بھجواتے رہتے۔ایسے فوجی نو جوانوں کو 16 نومبر 1947ء کی تقسیم میں ” درویشان نمبر 1 “ یا ” مستقل خدام کے نام سے موسوم کیا گیا۔