تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 28 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 28

تاریخ احمدیت بھارت 27 جلد اوّل جوشیلا فریق اشتعال میں آکر اخلاق اور روحانیت کا ظلم و استبداد کے ستھان پر چڑھاوا چڑھاوے۔ایسی صورت میں ہوسکتا ہے کہ قادیان فساد کی لپیٹ میں آجائے۔ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ ایسا وقت نہ آئے۔لیکن اگر خدانخواستہ فساد ہو جائے تو میں قادیان کے احمدی سے کہوں گا بہادری اور جوانمردی کے ساتھ مقابلہ کرتے ہوئے جان دے دو اور یہ ثابت کر دو کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں جان کی قربانی سب سے آسان قربانی ہے۔ہم کسی سے لڑنے کی خواہش نہیں رکھتے اور نہ کبھی اس قسم کا خیال ہمارے دلوں میں آنا چاہیئے۔رسول کریم مسالا این فرماتے ہیں لَا تَتَمَنوا لِقَاء العدو تم دشمن سے لڑائی کی خواہش بھی نہ کرو اپنے خیالات امن و صلح والے رکھو۔کیونکہ جس شخص کے دل میں لڑائی کے خیالات موجزن ہوں گے، وہ ذراسی بات سے ہی مشتعل ہو جائیگا۔اور جس شخص کے دل میں صلح و آشتی کے خیالات ہوں گے وہ جلدی مشتعل نہیں ہوگا۔یہ قدرت کا ایک قانون ہے کہ انسان اپنی حالت کو یکدم نہیں بدل سکتا۔فرض کرو کوئی شخص قہقہہ مار کر ہنس رہا ہو اور اسے یہ خبر دی جائے کہ تمہارا بیٹا مر گیا ہے تو یہ ہو نہیں سکتا کہ وہ اسی وقت یکدم رونا شروع کر دے۔بلکہ اس کی جنسی تھوڑی دیر میں رکے گی پھر وہ کچھ دیر کے بعد افسردہ ہوگا۔پھر آنسو بہانا شروع کر دے گا۔اسی طرح جس شخص کے دل میں صلح و آشتی کے خیالات ہوں وہ یکدم مشتعل نہیں ہوسکتا۔جب ریل اپنا کا نشا بدل لیتی ہے تو وہ بھی آہستہ ہو جاتی ہے اور ست رفتار ہو کر اس جگہ سے گزرتی ہے۔اگر وہ تیزی سے کانٹا بدلے تو اس کے الٹ جانے کا اندیشہ ہوتا ہے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ نے فطرت انسانی کے لئے یہ قانون بنایا ہے کہ وہ اپنی حالت کو آہستہ آہستہ بدلتی ہے۔اگر فور أحالت بدل جاتی تو ہسٹیریا یا جنون ہو جانے کا اندیشہ تھا۔پس جو دماغ پہلے سے لڑائی کے خیالات میں منہمک ہوتا ہے وہ فور مشتعل ہو جاتا ہے۔لیکن جس دماغ میں صلح اور امن کے خیالات ہوتے ہیں وہ کچھ دیر کے بعد مشتعل ہوتا ہے اور اتنی دیر میں مجرم کا جرم ثابت ہو جاتا ہے۔پس میں جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ فسا دہی سے نہ بچو بلکہ جھگڑے والے خیالات بھی اپنے دماغ میں پیدا نہ ہونے دو لیکن ہماری تمام کوششوں کے باوجود جو ہم صلح اور امن کے قیام کے لئے کر رہے ہیں اگر کوئی ایسا واقعہ ہو جائے جو فساد کی بنیادرکھنے والا ہو تو یا درکھو کہ اسلام کی یہ تعلیم ہے کہ یہ حرام اور نا جائز ہے کہ جرم کوئی کرے اور سزا کسی کو دی جائے۔ہماری شریعت ہمیں یہ حکم دیتی ہے کہ جہاں تم رہتے ہو وہاں تم ایک دوسرے کے لئے امانت ہو۔اس لحاظ سے قادیان کے ہند وسکھ اور غیر احمدی ہمارے لئے بمنزلہ امانت ہیں اور ہمارا فرض ہے کہ ان کی حفاظت کریں۔اور ہندو