تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 387 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 387

جلداول 356 تاریخ احمدیت بھارت ماتحت اس حکومت کے فرمانبردار رہو۔جس حکومت میں تم بستے ہو۔یہی احمدیت کی تعلیم ہے جس پر گزشتہ ستاون (57) سال سے ہم زور دیتے چلے آئے ہیں۔یہ تعلیم آج کل کے حالات سے بدل نہیں سکتی۔اور نہ آئندہ کے حالات کبھی بھی اسے بدل سکتے ہیں۔دنیا میں کبھی بھی امن قائم نہیں ہو سکتا جب تک کہ اس تعلیم پر عمل نہ کیا جائے کہ ہر ایک ملک میں بسنے والے اپنی حکومت کے فرمانبردار ہیں اور اس کے قانون کی پابندی کریں۔کوئی اس تعلیم کو مانے یا نہ مانے احمدی جماعت کا فرض ہے کہ ہمیشہ اس تعلیم پر قائم رہے۔ملک کے قانون کے ماتحت اپنے حق مانگنے منع نہیں۔لیکن قانون توڑنا اسلام میں جائز نہیں۔میں نے سنا ہے کہ بعض غیر مسلموں نے میری ایک تقریر کے بعض فقرات کو بگاڑ کر قادیان میں اشتہار دیا کہ میں نے کہا ہے کہ تمام ہندوستان کے احمدیوں کو۔۔۔کشمیر کی گورنمنٹ کی امدا د کرنا چاہئیے۔اور جنگ میں ان کا ساتھ دینا چاہئے۔میری اس تقریر میں جنگ کا کوئی ذکر نہیں تھا بلکہ سردی میں ٹھٹھرنے والے لوگوں کے لئے کپڑے کی امداد کا ذکر تھا۔اسی طرح ہندوستان کے احمدیوں کا کوئی ذکر نہیں تھا۔بلکہ پاکستان میں رہنے والے لوگوں سے خطاب تھا۔اور جیسا کہ میں اوپر بتا چکا ہوں احمدیت کی یہ تعلیم ہے کہ جس حکومت میں کوئی رہے اس کی اطاعت کرے۔پاکستان کے احمدی پاکستان کے مفاد کا خیال رکھیں گے اور ہندوستان کے احمدی ہندوستان کے مفاد کا خیال رکھیں گے۔اسی طرح جس طرح پاکستان کے رہنے والے ہند و پاکستان کا خیال رکھیں گے اور ہندوستان میں رہنے والے عام مسلمان ہندوستان کے مفاد کا خیال رکھیں گے۔یہی وہ بات ہے جس کی پاکستان کے لیڈر ہندوستان کے مسلمانوں کو تلقین کر رہے ہیں اور یہی وہ بات ہے جس کو ہندوستان کے لیڈر پاکستان کے ہندوؤں کو سمجھا رہے ہیں۔اگر ہندوستان کے بعض باشندے اپنے چوٹی کے لیڈروں کی بات بھی نہیں سمجھ سکتے تو وہ میری بات کس طرح سمجھ سکتے ہیں۔پس تم ان کی باتوں پر صبر کرو اور احمدیت کی اس نصیحت پر ہمیشہ کار بندر ہو کہ جس حکومت میں رہو اس کے فرمانبردار رہو۔میں آسمان پر خدا تعالیٰ کی انگلی کو احمدیت کی فتح کی خوشخبری لکھتے ہوئے دیکھتا ہوں۔جو فیصلہ آسمان پر ہوز میں اسے رد نہیں کر سکتی اور خدا کے حکم کو انسان بدل نہیں سکتا۔سو تسلی پاؤ اور خوش ہو جاؤ۔اور دعاؤں اور روزوں اور انکساری پر زور دو اور بنی نوع انسان کی ہمدردی اپنے دلوں میں پیدا کرو کہ کوئی مالک اپنا گھوڑا بھی کسی ظالم سائیں کے سپرد نہیں کرتا۔اسی طرح خدا بھی اپنے بندوں کی باگ ان ہی کے ہاتھ