تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 385
جلد اوّل 354 تاریخ احمدیت بھارت -1 جلسے کا پہلا دن 26 دسمبر 1947ء اجلاس اول اس تاریخی جلسے کے افتتاحی اجلاس کی کارروائی کا آغاز کلام پاک کی تلاوت سے کیا گیا۔جو حافظ عبدالرحمن صاحب پشاوری نے کی۔پھر گوجرانوالہ کے بشیر احمد صاحب نے حضرت مصلح موعود کی دردانگیز نظم ” نونہالان جماعت سے خطاب سنائی۔ازاں بعد حضرت مولوی عبد الرحمن صاحب جٹ نے نہایت رقت بھری آواز سے سورہ فاتحہ کی تلاوت کی اور اپنی مختصر تقریر میں بتایا کہ جب میں 1902ء میں پہلی دفعہ قادیان میں آیا تو ڈاک ہفتہ میں صرف دو بار آتی تھی اور تار کا کوئی انتظام ہی نہیں تھا۔بعد میں جب جماعت نے تار گھر کھلوانا چاہا تو محکمہ نے بطور ضمانت ایک معقول رقم جماعت سے وصول کی لیکن آمداتنی زیادہ ہوئی کہ ایک ماہ میں ہی ہماری رقم واپس کر دی گئی۔پھر کچھ عرصہ بعد ٹیلیفون کا سلسلہ بھی جاری ہو گیا۔حضرت مولوی صاحب نے تقریر جاری رکھتے ہوئے فرمایا کہ قادیان موجود ہے۔اس کے مقدس شعائر موجود ہیں۔اس کی مساجد موجود ہیں۔اس کا لنگر خانہ موجود ہے۔لیکن افسوس ہمارا پیارا امام یہاں موجود نہیں۔آنکھیں اپنے آقا کو دیکھنے کے لئے ترستی ہیں مگر پاتی نہیں۔تاہم ہمیں ایک گونہ خوشی ضرور ہے کہ حضور نے ہم خادموں کو اپنے پیغام سے نوازا ہے۔یہ بشارت سنانے کے بعد حضرت مولوی صاحب لمضله نے امام ہمام امیر المومنین سیدنا اصلح الموعود کا پیغام پڑھ کر سنایا جو یہ تھا:۔بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسوله الكريم و على عبده المسيح الموعود خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ هو الناصر وو برادران جماعت احمد یہ مقیم قادیان! السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاته 1912ء میں جب میں حج کے لئے گیا تھا تو حج سے واپسی ایام دسمبر میں ہوئی تھی۔جہاز دو دن