تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 367 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 367

جلد اوّل 336 تاریخ احمدیت بھارت نوجوان لڑکیاں اغوا کر لی جاتیں۔بوڑھے اور معذور اور بیمار مرد اور عورتیں راستے میں ہی چھوڑ دیئے جاتے جو وہاں ہی دم توڑ دیتے۔ان جانے والوں کے پاس جو تھوڑا بہت زیور ہوتا۔وہ بھی زبر دستی چھین لیا جاتا۔اور جو اسباب یا دودھ دینے والے جانور ہوتے اسے بھی شر پسند عناصر چھین لیتے۔ان کی تکالیف کا ذکر گزشتہ صفحات میں کیا جا چکا ہے۔بہر حال یہ مظلوم جتنے دن قادیان میں قیام کرتے جماعت احمد یہ ایسے مخدوش حالات اور اپنی کسمپرسی کے باوجود اپنے محدود وسائل کے مطابق ان کے کھانے پینے کا انتظام کرتی۔16 نومبر 1947ء کو آخری قافلہ روانہ ہونے کے بعد بھی ان مظلوموں کی آمد کا سلسلہ جاری رہا۔کھانے پینے کے علاوہ سب سے بڑا مسئلہ اتنی بڑی تعداد کے لئے محلہ احمدیہ میں بیت الخلاء کا انتظام نہ ہو نیکی وجہ سے جگہ جگہ غلاظت پیدا ہونے کا تھا۔درویشان کرام خود وقار عمل کر کے صفائی کا بھی کام کرتے۔چنانچہ 19 دسمبر 1947ء کو درویشان کرام نے دفتر امور عامہ کے جنوبی جانب اجتماعی وقار عمل کیا۔اور گڑھے کھود کر گندگی اور غلاظت کو دبایا۔ایک بزرگ درویش نے بتایا کہ اکثر درویش بڑے اور اوسط درجے کے زمیندار گھرانوں سے تعلق رکھتے تھے جن کے گھروں میں روز مرہ کے گھریلو کاموں اور صفائی کے لئے مرد اور عورتیں بطور ملازم مقرر تھیں۔ان درویشوں نے اپنی زندگی میں کبھی ایسے کام نہ کئے تھے لیکن جب انہیں گندگی متعفن بول و براز کی غلاظت اٹھا کر گڑھوں میں دبانے کے لئے کہا گیا تو اکثر بلا توقف یہ کام کرنے لگے۔مگر کچھ ایسے بھی تھے جو اپنی طبائع اور حساس مزاج کی وجہ سے کراہت محسوس کرنے لگے ایسے درویشوں کو کسی نے نصیحتنا کہا ہمارے آقا سید نا حضرت محمد مصطفی سنا تم نے بھی مہمانوں کی غلاظت صاف کی تھی اتنا سننا تھا کہ ان درویشوں نے اپنے ناک پر کپڑا باندھ کر وقار عمل شروع کر دیا۔آج مسلمان کہلانے والے مخالفین احمدیت جو چاہیں کہہ لیں۔مگر ان خطر ناک حالات میں غیر احمدی مسلمانوں کی بے لوث خدمت کرنے والی اگر کوئی جماعت تھی تو وہ حضرت مسیح موعود کی تربیت یافتہ جماعت تھی جنہوں نے بیعت کے وقت یہ عہدد ہرایا تھا:۔یہ کہ عام خلق اللہ کو عموماً اور مسلمانوں کو خصوصاً اپنے نفسانی جوشوں سے کسی نوع کی ناجائز تکلیف نہ دے گا۔نہ زبان سے نہ ہاتھ سے نہ کسی اور طرح سے۔“