تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 360
تاریخ احمدیت بھارت 329 جلد اوّل نلکا کے پانی سے ایک ٹکیا صابن سے کپڑے دھولیا کرتے تھے۔اور ایک دوسرے کے بال تراشتے ، حجامت بنا لیتے تھے۔خاکسار بھی ان میں شامل تھا۔یہی ہماری بسر اوقات تھی۔(7) درویشان قادیان اور ان کی تنظیم آخری کنوائے چلے جانے کے بعد قادیان میں حضرت مولوی عبد الرحمن صاحب جٹ فاضل امیر مقامی تھے۔اور قریباً تین سو تیرہ جاں نثار اور کفن بر دوش احمدی نوجوان اور بزرگ آپ کے ساتھ قادیان میں تھے۔اور انہوں نے یہ عزم کیا ہوا تھا کہ بہر حال مقامات مقدسہ کی حفاظت کے لئے اپنی جان ، مال اور عزت و آبرو تک قربان کر دیں گے مگر مرکز احمدیت پر آنچ نہ آنے دیں گے۔ان خوش نصیبوں نے جن کو خدا تعالیٰ نے مسیح وقت کی تخت گاہ کی نگہبانی کے لئے چنا میسیج محمدی کے الہام "یہ ( نان ) تیرے لئے اور تیرے ساتھ کے درویشوں کے لئے ہے (8) کے مطابق درویش کا قابل فخر خطاب پایا۔قادیان میں ٹھہرنے والے درویشوں میں 221 نوجوان 57 درمیانی عمر کے اور 35 بوڑھے احباب تھے۔جن میں گیارہ صحابہ حضرت مسیح موعود کا پاک اور قدوسی گروہ بھی شامل تھا۔(9) تاریخ احمدیت میں درج ہے کہ قادیان کے مقامی احمدی درویشوں کو ان کے انتخاب کی اطلاع قبل ازیں یکم نومبر 1947ء کو بذریعہ کارڈ دی گئی تھی۔جو امیر جماعت احمدیہ قادیان مولانا جلال الدین صاحب شمس کے دستخطوں سے جاری کیا گیا۔اور جس پر یہ عبارت درج تھی:۔وو درویش نمبر۔۔۔۔نام۔۔۔۔۔۔۔۔۔مبارک ہو کہ آپ کو اگلے دو ماہ کے لئے قادیان۔میں ٹھہر نے کے لئے منتخب کیا گیا ہے امید ہے۔آپ امن اور صلح سے رہیں گے اور اپنے ساتھیوں سے تعاون کریں گے۔خود تکلیف اٹھائیں گے مگر ساتھیوں کو تکلیف نہ ہونے دیں گے۔“ اور درویشان سے حسب ذیل عہد لیا گیا:۔ہم احمدی۔۔۔۔۔۔۔جن کے دستخط ذیل میں ثبت ہیں۔خدا تعالیٰ کو حاضر ناظر جان کر یہ عہد کرتے ہیں کہ ہم تا حکم ثانی ( جو انشاء اللہ تعالیٰ موجودہ فیصلہ کے مطابق دو ماہ تک ہوگا ) قادیان کو نہیں چھوڑیں گے۔امن اور صلح سے رہیں گے ایک دوسرے سے تعاون کریں گے۔اور ہم میں سے جو آفیسر ہیں وہ خود تکلیف اٹھائیں گے لیکن دوسروں کو تکلیف نہ ہونے دیں گے۔“ (10)