تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 359 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 359

جلد اوّل 328 تاریخ احمدیت بھارت صاحب پر بھا کر درویش تحریر کرتے ہیں :۔”لا الہ الا الله محمد رسول اللہ کے سچے عاشقان ، مزار مبارک مہدی علیہ السلام اور دیگر شعائر اللہ قادیان کی خدمت و حفاظت کرنے والے تین سو تیرہ درویشان کا حلقہ بود و باش محدود تھا۔جوان دنوں کسٹوڈین کی تحویل میں تھا۔مسجد اقصیٰ ، مکان سید ناصر شاہ صاحب اور سیر محلہ اکال گڑھ شمالی کونہ ، باب الانوار، مکان بھائی عبدالرحمن صحابی پر انا لنگر خانہ نمبر 1، کوٹھی عبد المغنی خان صاحب، اراضیات حضرت مصلح موعود موجودہ کالونی تک محله دار الضعفاء، بہشتی مقبره، پل بہشتی مقبرہ، محلہ آرائیاں تا دیوار مسجد اقصیٰ۔یہ سہا سہا حلقہ محلہ احمدیہ کہلایا۔اسی ایریا میں محمد رسول اللہ صلی یتیم کے نام لیوا عاشق محصور کر دیئے گئے۔کر فیولگا رہتا تھا گولیاں چلتی رہتی تھیں۔اس حلقہ سے عام سڑکوں سے باہر آنا جانا نہایت خطر ناک تھا۔میری رہائش مدرسہ احمدیہ میں تھی اور پہرہ کی ڈیوٹی مکان سید سرور شاہ صاحب سے لے کر کوٹھی عبد المغنی خان تک کے مکانات کے لئے تھی۔ان مکانات تک جانے کے لئے چھپ کر جانا پڑتا تھا تب۔پرانے دفتر بیت المال سے لیکر مکان سید سرور شاہ صاحب تک ڈھاب کے پانی کو تیر کر پار کرتے تھے بعد میں آبی راستہ پر تار باندھ دیا گیا تھا۔اس محلہ کے مکانات کے پچھواڑے کے دروازوں سے آنا جانا ہوا کرتا تھا۔ایسا ہی خطرہ کے مد نظر چند بار بہشتی مقبرہ جانے والوں کو ڈھاب کا لمبا آبی راستہ تیر کر پار کرنا پڑتا تھا اس احتیاط کا فائدہ یہ رہا کہ کرفیو میں گشت کرنے والے فوجیوں سے محفوظ رہے۔میرے پہرہ کے حلقہ مکانات میں گندم اور چکی تھی۔میں چکی چلا کر آٹا دلیا بنالیتا کچھ عرصہ گندم ابال کر بھی کھانی پڑی۔۔۔۔۔درویشی کے ابتدائی ایام سے کچھ عرصہ تک قادیان کا بیرونی دنیا سے رابطہ کٹا رہا۔پہلے بیرونی احمدیہ جماعتیں اپنے چندہ جات قادیان بھجوایا کرتی تھیں۔اب یہ سلسلہ قطعی طور پر منقطع تھا۔کوئی ذریعہ آمدنی کا نہیں تھا۔پیشہ ور صاحب ہنر درویشوں کا کچھ کمانے کے لئے اپنے محصور حلقہ سے باہر جانا موت کو دعوت دینے کے مترادف تھا۔ان حالات میں عام درویشان کو بعد وضع چندہ ساڑھے چار روپے ماہانہ ملا کرتے تھے۔لنگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کھانے کے لئے پاکیزہ نان ملا کرتے تھے۔صابر و شاکر درویشان کے منہ سے مالی تنگی کا کبھی کوئی کلمہ نہیں نکلا۔مہمان خانہ کے درمیانے فیملی کوارٹر میں نلکا تھا۔درویش باری باری اس کوارٹر میں جمع ہوتے۔