تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 358
تاریخ احمدیت بھارت 327 جلد اوّل نوٹ سپر د قلم فرمایا:۔مکرمی بھائی عبد الرحمن صاحب قادیانی اور دوسرے درویشان قادیان کے مضامین سے دوستوں کو معلوم ہو چکا ہے کہ موجودہ حالات کے نتیجہ میں آج کل قادیان کی زندگی کتنی روحانی فیوض سے معمور ہے گویا کہ اس کے لیل و نہار مجسم روحانی بن چکے ہیں۔کیونکہ قادیان میں رہنے والے دوستوں کو دنیا کے دھندوں سے کوئی سروکار نہیں اور ان کی زندگی کا ہرلمحہ روحانی مشاغل کے لئے وقف ہے۔قرآن وحدیث کا درس نوافل ، نمازوں اور خصوصاً تہجد کا التزام خشوع و خضوع میں ڈوبی ہوئی دعاؤں کا پروگرام نفلی روزوں کی برکات اور دن رات حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بابرکت گھر اور بیت الدعا اور مسجد مبارک اور مسجد اقصیٰ اور بہشتی مقبرہ میں ذکر الہی کے مواقع۔یہ وہ عظیم الشان نعمتیں ہیں جن سے جماعت کا بیشتر حصہ آجکل محروم ہے اور قادیان کا ماحول ان نعمتوں سے بہترین صورت میں فائدہ اٹھانے کا موقعہ پیش کرتا ہے۔(5) درویشی کی ابتداء میں قادیان کے درویشان کا زیادہ وقت ذکر الہی میں گزرتا تھا۔چنانچہ اس سلسلہ میں مکرم حکیم چوہدری بدرالدین صاحب عامل درویش مرحوم تحریر کرتے ہیں:۔ابتداء درویشی میں درویشوں کی مصروفیات کا لائحہ عمل کچھ یوں تھا۔کہ نماز تہجد دونوں مساجد میں باجماعت ادا ہوتی جن افراد کی پہرہ کی ڈیوٹی ہوتی وہ اپنے مقام پر نماز ادا کرتے۔پھر فجر کی نماز اور درس حدیث بعد ازاں بہشتی مقبرہ میں دعا اور واپس آکر ناشتہ جولنگر خانہ کی ایک روٹی اور دال پر مشتمل ہوتا۔بعد ناشتہ چند افراد کو چھوڑ کر جو دفتری اور تیاری طعام کے کاموں پر مامور تھے۔باقی افراد بہشتی مقبرہ کے گرد بنائی ہوئی حفاظتی دیوار کی مرمت کے کام میں لگ جاتے اور نماز ظہر تک و قارعمل کا سلسلہ جاری رہتا۔نماز ظہر کے بعد کھانا۔عام معمول کا کھانا دال اور روٹی۔ایک دو تین چار تک جیسی کسی کو بھوک ہوتی۔بعد فراغت تھوڑی دیر آرام ، اس صورت میں پہرہ کا قیام لازمی اور پھر نماز عصر اور بعد نماز عصر حضرت مسیح موعود کی کتب کا درس۔نماز مغرب کے بعد رات کا کھانا۔پھر نماز عشاء اور نماز کے بعد حاضری۔پھر رات کے پہرہ کی تقسیم۔اور باقی افراد آرام۔رات کو جن افراد کی جس روز پہرہ کی ڈیوٹی نہیں ہوتی تھی۔وہ اپنے ذاتی مطالعہ میں مصروف رہتے۔“ (6) انہی ابتدائی ایام میں درویشان کے معمولات زندگی بیان کرتے ہوئے محترم مولوی خورشید احمد