تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 357 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 357

جلد اوّل 326 تاریخ احمدیت بھارت اور جنوب مغربی دونوں کونوں میں دو کوارٹر دو دو منزلہ بغرض رہائش محافظین بنا کر نہایت ہوشیاری و عقلمندی اور محبت کا مظاہرہ کیا ہے۔ان کوارٹروں میں پانچ پانچ نوجوان دن رات رہتے ہیں۔اسی طرح مزار سیدنا حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام کی چاردیواری کے شمال مشرقی کو نہ پر بھی ایک دو منزلہ کوارٹر بنایا گیا ہے۔اور ایک کوٹھڑی جو پہلے سے جنوب مغربی کو نہ چار دیواری کے باہر تھی اس کو بھی بغرض حفاظت دو منزلہ بنا دیا گیا ہے اور آج کل تھیں نوجوان صرف مقبرہ بہشتی کی حفاظت پر مامور ہیں۔جو وقار عمل کے وقت دوسرے درویشوں کے ساتھ مل کر بھی کام کرتے ہیں۔الغرض۔۔۔یہ تو ہے ایک مختصر سا خاکہ۔سب کچھ کھو کر بھی۔۔۔۔اگر خدامل جائے۔اس کی رضا حاصل ہو جائے اور حضور کے زیر قیادت و ہدایت یہ راہیں ہمارے لئے آسان ہوتی جائیں اور صبر و استقلال سے تحصیل علوم دینیہ، عبادت و ذکر الہی خدمت خلق اور روحانی ترقیات کے سامان میسر رہیں۔نیتیں نیک اور اعمال ہمارے صالح ہوں تو عجب نہیں کہ وہ مقام عالی حضور کے غلاموں کو اس محاصرہ کی حالت اور مشکلات کے دور میں میسر آجائے تو یہ سودا بہت ستا اور مفید ہے۔آقا! ہماری جس تبدیلی کے لئے حضور ہمیشہ تحریکیں فرماتے چلے آئے ہیں۔اور رات اور دن حضور کے اسی کوشش اور فکر میں گزرتے چلے آئے ہیں۔کیا عجب کہ وہ اس قیامت ہی سے وابستہ ہوں اور قضاء وقدر کا قانون خاص ہی حضور کے ان مقاصد کی توفیق جماعت کو عطا فرمادے اور پاک تبدیلی اسی قانون پر منحصر ہو۔خدا کرے ایسا ہی ہو۔دنیا تو گئی اگر خدامل جائے تو پھر کوئی خسارہ ہے نہ گھاٹا۔نوجوانوں کی کایا پلٹ ہو گئی ہے یا کم از کم ہو رہی ہے۔خدا کرے کہ اس حرکت میں برکت ہو۔اور اس قدم کے اٹھانے میں اللہ تعالیٰ دوڑ کر ہماری طرف آئے۔دستگیری فرمائے اور اٹھا کر زمینی سے آسمانی بنادے۔میرے آقا قصہ کوتاہ یہ وقت ایک خاص وقت ہے اور میں محسوس کرتا ہوں کہ مصلحت الہی اور منشاء ایزدی نے اس انقلاب کے ساتھ جماعت میں اس پاک تبدیلی کو وابستہ کر رکھا ہے جو حضور ہم میں پیدا کرنا چاہتے ہیں اور یہ وقت ہے جس میں خدا کا قرب پانے کے مواقع میسر ہیں“۔(4) حضرت قمر الانبیاء صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے درویشان قادیان کی نسبت حسب ذیل