تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 315
جلد اول 284 تاریخ احمدیت بھارت کہ بے انتہا اسلحہ ہے لیکن بہت معمولی اسلحہ تھا۔ایک تھری ناٹ تھری رائفل کے لئے مجاہد جان دینے کے لئے تیار بیٹھے تھے کیونکہ اس رائفل کے ذریعہ کی لوگوں کی جانیں بچائی جاسکتیں تھیں۔تو مکرم کیپٹن شیر ولی صاحب نے کیپٹن نور احمد صاحب کے بیان کے مطابق مجھے پانچ آدمیوں کے ہمراہ بھیج دیا کہ آپ لوگ جا کر راکفل تلاش کر لائیں۔جب ہم وہاں پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ کنویں کے ساتھ رہی نہیں ہے جس کے ذریعہ کنویں میں اترا جاوے۔میں نے کسی چیز کو تلاش کرنے کی کوشش کی اور کنویں میں چھلانگ لگادی۔چھلانگ لگاتے ہی میری پشت پر ایک برچھی دھنس گئی۔مجھے بہت زیادہ تکلیف ہوئی لیکن میں نے اس کی پروا کئے بغیر کنویں میں غوطہ لگایا لیکن کنویں میں کوئی رائفل نہیں تھی۔ایک غلط اطلاع تھی یا کسی نے دیکھ لیا ہو گا رائفل پھینکتے ہوئے اور ان کے پہنچنے سے پہلے نکال لی۔صرف تین چار برچھیاں تھیں جن میں سے ایک برچھی نے ان کو زخمی کیا۔واپسی پر راجن پور کے قریب ہم نے دیکھا کہ کچھ۔۔۔۔(مفسدہ پرداز وہاں سے نکل رہے ہیں۔ہم پر واہ کئے بغیر آگے بڑھ گئے لیکن عبد الرحمن صاحب حوالدار پیچھے ہی رہ گئے۔جب۔۔۔۔(مفسدہ پردازوں) نے دیکھا تو بھاگ کر آئے اور موقع پر ہی عبدالرحمن صاحب کو شہید کر دیا۔ہمیں اس واقعہ کی اطلاع بعد میں ملی۔ہم جب تلونڈی جھنگلاں پہنچے تو پیچھے سے آنے والے کسی آدمی نے بتایا کہ عبدالرحمن کو۔۔۔۔(مفسدہ پردازوں) نے مار دیا ہے اور لاش کماد میں پھینک دی ہے۔یعنی گنے کے کھیت میں۔ہم لوگ وہیں سے جائے واردات کی طرف لوٹے اور عبدالرحمن کی لاش کو حفاظت سے واپس لے آئے۔تو یہ روح تھی جو اس زمانہ میں کارفرما تھی۔عظیم بہادری کے نمونے دکھائے ہیں مجاہدین نے اور امر واقعہ یہ ہے کہ آپ تلاش کر کے دیکھیں تاریخ میں۔اسلام کی اولین تاریخ کے سوا آپ کو اس قسم کی بیباک شہادتوں اور قربانیوں کے واقعات اور نظر نہیں آئیں گے۔میں امید رکھتا ہوں کہ آپ ان واقعات کو ہمیشہ اپنے دل کی دنیا میں آباد رکھیں گے اور آپ کے دل کی دنیا ان واقعات کی یاد سے جگمگاتی رہے گی اور انہی میں سے، انہی لوگوں میں سے جن کے دلوں میں یہ یادیں وابستہ ہیں آسمانِ احمدیت پر چمکنے والے ستارے بھی پیدا ہوں گے۔اللہ تعالی ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔(41) اس کے بعد حضور انور حضرت خلیفہ اسیح الرابع نے اپنے خطبہ جمعہ 11 جون 1999ء میں بعض اور شہداء کا ذکر کیا جو 1947ء کے فسادات کے دوران شہید ہوئے۔خطبہ جمعہ کی عبارت درج ذیل ہے:۔