تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 12
تاریخ احمدیت بھارت 11 جلد اول میں سے کوئی ایک ہے۔ایسا ہی جن اشتہاروں کو یہ لوگ وقتا فوقتاً جاری کرتے ہیں ان کے پڑھنے سے ہر یک شخص سمجھ سکتا ہے کہ ان کے دلوں میں کیا کچھ بھرا ہوا ہے۔گمنام خط جس قدر آریوں کی طرف سے آتے ہیں وہ اکثر بیرنگ ہوتے ہیں اور علاوہ ایک آنہ محصول ضائع کرنے کے جب اندر سے کھولا جاتا ہے تو نری گالیاں اور نہایت گندی باتیں ہوتی ہیں ایسے خط معلوم ہوتا ہے کہ کسی لڑکے بدخط سے لکھائے جاتے ہیں عبارت وہی معمولی ان گنده زبان آریوں کی ہوتی ہے اور خط بچوں کا سا۔ہم نہیں جانتے کہ ہم نے ان کا کیا گناہ کیا ہے راستی کو تہذیب اور نرمی سے بیان کرنا ہمارا شیوہ ہے ہاں چونکہ یہ لوگ کسی طور سے ناراستی کو چھوڑ نا نہیں چاہتے اسلئے سچ کہنے والے کے جانی دشمن ہو جاتے ہیں سو چونکہ ہمارے نزدیک کلمہ حق سے خاموش رہنے اور جو کچھ خدائے تعالیٰ نے صاف اور روشن علم دیا ہے وہ خلق اللہ کونہ پہنچانا سب گناہوں سے بدتر گناہ ہے اس لئے ہم ان کی قتل کی دھمکیوں سے تو نہیں ڈرتے اور نہ بجز ارادہ الہی قتل کر دینا ان کے اختیار میں ہے لیکن ہم یہ بھی نہیں چاہتے کہ کسی ظالم آریہ کے اقدام قتل سے ہمارے ہموطن اور ہم شہر آریہ پولیس کی کشاکشی میں پھنس جائیں۔اس لئے اول تو انہیں ہم یہ نصیحت کرتے ہیں کہ اس سرحدی شخص سے جس کا نام لیکھرام یا لیکھ راج ہے پر ہیز رکھیں۔اس کے ساتھ ان کی در پردہ خط و کتابت اچھی نہیں اس کی تحریریں جو ہمارے نام آئی ہیں سخت خطر ناک ہیں اور دوسرے ہم یہ بھی مناسب سمجھتے ہیں کہ اب ہم اپنے پیارے زاد بوم قادیان کو مصلحت مذکورہ بالا کے لحاظ سے چھوڑ دیں اور کسی دور کے شہر میں جا کر مسکن اختیار کریں کیوں کہ جس جگہ میں ہمارا رہنا ہمارے حاسدوں کے لئے دکھ کا موجب ہوان کا رفع تکلیف کرنا بہتر ہے۔کیونکہ بخدا ہم دشمنوں کے دلوں کو بھی تنگ کرنا نہیں چاہتے اور ہمارا خدا ہر جگہ ہمارے ساتھ ہے حضرت مسیح علیہ السلام کا قول ہے کہ نبی بے عزت نہیں مگر اپنے وطن میں لیکن میں کہتا ہوں کہ نہ صرف نبی بلکہ بجز اپنے وطن کے کوئی راستباز بھی دوسری جگہ ذلت نہیں اٹھاتا اور اللہ جل شانہ فرماتا ہے و مَنْ يُهَاجِرُ في سَبِيلِ اللهِ يَجِدُ فِي الْأَرْضِ مُرغَماً كَثِير أَو سَعَةً (10) یعنی جو شخص اطاعت الہی میں اپنے وطن کو چھوڑے تو خدائے تعالیٰ کی زمین میں ایسے آرام گاہ پائیگا جن میں بلا حرج دینی خدمت بجا لا سکے۔سوائے ہم وطنو ہم تمہیں عنقریب الوداع کہنے والے ہیں۔(11) بہر حال اس وقت کسی الہی تفہیم کے پیش نظر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قادیان سے ہجرت کا ارادہ معرض التواء میں ڈال دیا۔