تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 298 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 298

267 جلد اوّل تاریخ احمدیت بھارت یکتا اور منفرد ہے۔ایک سکھ دوست (چرن سنگھ صاحب) سنایا کرتے تھے کہ اس وقت دعا کا منظر میدان حشر سے کم نہ تھا۔تقریباً ساڑھے بارہ بجے یہ آخری کنوائے روانہ ہوا۔اس کنوائے میں روانہ ہونے والوں میں پر آشوب دور کے سالار لشکر حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب (رحمہ اللہ تعالیٰ) کے علاوہ مولانا جلال الدین صاحب شمس اور دوسرے بزرگان شامل تھے۔مولانا شمس صاحب نے قادیان سے الوداع ہوتے ہوئے مقدس بستی کو مخاطب کرتے ہوئے رقت آمیز الفاظ میں فرمایا:۔”اے قادیان کی مقدس سرزمین ! تو ہمیں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے بعد دنیا میں سب سے زیادہ پیاری ہے۔لیکن حالات کے تقاضا سے ہم یہاں سے نکلنے پر مجبور ہیں۔اس لئے ہم تجھ پر سلامتی بھیجتے ہوئے رخصت ہوتے ہیں“۔(39) محترم مولوی بشیر احمد صاحب کالا افغاناں درویش جوابتدائی درویشوں میں سے ہیں۔مؤرخہ 21 مئی 2015ء کو خاکسار ( راقم الحروف ) اور مکرم مامون الرشید تبریز صاحب ہمکرم ریحان احمد شیخ شاہد صاحب مربی سلسلہ شعبہ تاریخ احمدیت قادیان اور عزیز محمد شریف کوثر صاحب کو بعد نماز عصر اس سڑک پر لے گئے جہاں سے آخری کنوائے روانہ ہوا تھا۔انہوں نے خاص طور پر وہ جگہ دکھائی جہاں حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب ترک پر سوار ہوئے تھے۔انہوں نے بتایا کہ گزشتہ خطرناک اور مخدوش ایام میں میں نے حضرت صاحبزادہ صاحب کی آنکھوں میں کبھی آنسو نہیں دیکھے۔نہ آپ کے چہرے پر کبھی گھبراہٹ یا خوف یا فکر مندی کے آثار دیکھے۔مگر اس دن میں نے دیکھا آپ ٹرک پر سوار تھے اور آپ کی نظریں کبھی بہشتی مقبرہ کی طرف اور کبھی منارہ مسیح کی طرف گھوم رہی تھیں اور ان میں آنسو تھے۔ٹرک آہستہ آہستہ آگے بڑھنے لگے مگر آپ کی نظریں منارہ مسیح کی طرف ہی تھیں اور زیر لب کچھ دعا کر رہے تھے جس کی وجہ سے صرف ہونٹوں کی حرکت نظر آرہی تھی۔سڑک پر ٹرکوں کا رخ شمال کی طرف تھا۔شمال سے ٹرک مغرب کی جانب گھوم گئے۔اور پھر ریتی چھلہ کے ساتھ ساتھ جاتی سڑک پر چلتے ہوئے سٹار ہوزری کی سڑک سے گزرے۔پھر جہاں آجکل (2019 میں ) بس اڈہ ہے، وہاں سے مغرب کی جانب ڈی۔اے۔وی اسکول کے پاس سے ہوتے ہوئے اور ریلوے لائن عبور کرتے ہوئے قتلے والی نہر کا پل پار کر کے ڈیہری وال اور وہاں سے بٹالہ روانہ ہوئے۔کنوائے جانے کا راستہ نقشے میں واضح کیا گیا ہے۔