تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 296 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 296

جلد اوّل 266 تاریخ احمدیت بھارت 16 نومبر 1947 ء ہجرت کرنے والوں کے آخری قافلہ کا رقت آمیز منظر مؤرخہ 15 نومبر 1947 ء کی شام تک لاہور سے آخری قافلے کو لے جانے والے کنوائے کے ٹرک قادیان پہنچ گئے تھے۔اور حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب کی کوٹھی ( بیت الظفر ) کے مغربی جانب واقع سڑک بنام قادیان ہر چوال پر بجانب شمال رخ کر کے ترتیب سے کھڑے ہو گئے۔معاہدہ کے مطابق صرف تین سو تیرہ افراد ( درویشان) نے قادیان میں باقی رہنا تھا۔ان کے علاوہ تمام احباب نے 16 نومبر 1947ء کو قادیان سے لاہور روانہ ہو جانا تھا۔اس تعداد کے علاوہ کسی ایک کو بھی رہنے کی اجازت نہیں دی جارہی تھی۔16 نومبر 1947ء کی صبح طلوع ہوئی۔اس روز پروگرام کے مطابق الوداع ہونے سے قبل۔مسجد مبارک بیت الدعا۔مسجد اقصیٰ بہشتی مقبرہ میں اجتماعی دعائیں کی گئیں۔بعد ازاں روانہ ہونے والے نے اپنا مختصر ساسامان اٹھایا اور جہاں ٹرک کھڑے تھے اس جانب چل پڑا۔ہر آنکھ نم تھی اور ہر چہرہ اداس تھا۔نظریں بار بار منارة امسیح اور بہشتی مقبرہ کی طرف اٹھتی تھیں اور ہر ایک خیالات کی اسی ادھیڑ بن میں تھا کہ نہ معلوم اس زندگی میں اسے دوبارہ قادیان زیارت نصیب ہوگی یا نہیں ؟ سول اور فوجی حکام بار بارجلد روانہ ہونے کی دہائی دے رہے تھے۔سامان رکھتے رکھاتے دن کے بارہ بج گئے۔اس موقعہ پر قادیان کے ان غیر مسلموں کی بڑی تعداد موجود تھی جو یہاں کے قدیمی باشندے تھے جو احمدی احباب کے اخلاق و کردار کو بخوبی جانتے تھے۔ان کے ساتھ مدت سے مکین تھے۔اعلان ہوا کہ کوچ کا وقت ہو چکا ہے۔احباب اجتماعی دعا کر لیں۔ظاہر ہے یہ جدائی کا موقعہ ہی ایسا تھا کہ ہر دل مجروح تھا۔اور مجروح دلوں سے نکلی ہوئی دعائیں یقینا اللہ تعالیٰ نے قبول کی ہوں گی۔دوسری طرف الحاح گریہ وزاری درد و کرب سے کی جانے والی یہ دعا ئیں غیر مسلموں نیز سول اور فوجی افسران کے لئے باعث حیرت و استعجاب تھیں۔اور ان میں سے بعض آپس میں سرگوشیاں کر رہے تھے کہ یہ لوگ ان خطرات کے بھنور سے نکل کر پر امن علاقے کی طرف جارہے ہیں۔مگر ان کے چہروں پر کوئی خوشی نہیں بلکہ اداسی اور جدائی کا صدمہ نظر آرہا ہے۔ان میں سے بعض نے اظہار بھی کیا کہ اب ہمیں معلوم ہوا ہے کہ احمدیوں کو اپنے مرکز قادیان سے نہ صرف محبت بلکہ وہ اس کی حفاظت کے لئے مر مٹنے اور فدا ہونے کے لئے تیار ہیں۔باقی مذاہب والے بھی اپنے اپنے مقدس مقامات سے عقیدت و محبت رکھتے ہیں مگر یہ فدائیت بالکل