تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 295
تاریخ احمدیت بھارت 265 جلد اوّل شامل ہے یا نہیں۔اگر وہ نہ آیا ہو تو اس کی کچھ کا پیاں یہاں بھجوائی جائیں اور کچھ کا پیاں وہاں رکھی جائیں۔پرانی تفسیر بھی کچھ وہاں رکھی جائیں تا کہ وہاں رہنے والے ان سے فائدہ اٹھاتے رہیں۔باقی دعا ئیں بہت کرتے رہیں۔قادیان سے بھی زیادہ اس طرف کو خطرہ ہے۔حضرت مسیح موعود کے مزار پر جا کر اور مسجد مبارک میں بہت دعائیں کریں۔یادرکھیں کہ دعاؤں اور برکتوں کی جگہ قادیان ہے۔وہاں کے رہنے والے قادیان کی حفاظت کے علاوہ جماعت کی حفاظت کا کام بھی کریں گے۔کیونکہ بیرونی جماعتوں کی حفاظت میں قادیان کے لوگوں کی دعائیں بہت کچھ کام دے سکتی ہیں۔اگر خدانخواستہ بیرونی جماعتوں پر اور کوئی آفت آئے تو قادیان کی جماعت کو یہ مدنظر رکھنا چاہئیے کہ احمدیت اور اسلام کا جھنڈا قائم رکھنا ان کا فرض ہے۔تمام دنیا میں احمدیہ لٹریچر کی حفاظت اور تبلیغ وہ اپنا کام سمجھے (سمجھیں۔ناقل ) بہر حال احمدیت کا بیج دنیا سے مٹ نہیں سکتا۔اور ہر مومن کا فرض ہے کہ اس پیج کو بڑھائے۔اور پھیلانے میں حصہ لے۔مرز امحموداحمد 12 /نومبر 1947ء(38) 1947ء کے حالات کے متعلق حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے اپنے خطبہ جمعہ فرمودہ 18 جولائی 1969ء میں فرمایا: 1947ء کی آگ میں سے بھی (ہم ) ہنستے ہوئے نکل آئے تھے حالانکہ حکومت بھی ظالم اور لوگ بھی خونخوار بنے ہوئے تھے۔۔۔۔(مفسدہ پردازوں) کو بھی ایک جنون تھا۔آخری دنوں میں مسجد مبارک کی دیواروں پر قریب روزانہ ہی گولیاں آکر لگا کرتی تھیں۔گرمیوں کے دن تھے۔ہم اوپر بیٹے قہقہے لگارہے ہوتے تھے کوئی پرواہی نہیں ہوتی تھی۔“ ( بحوالہ الفضل 22 /اکتوبر 1969 ء صفحہ 7 ، خطبات ناصر جلد دوم صفحه 752)