تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 291
تاریخ احمدیت بھارت 261 جلد اوّل گزارہ ملتا ہے۔ان کے گزارہ میں سے بھی کھانے کا خرچ نکالنا چاہئیے گندم چونکہ موجود ہے اس لئے میرے خیال میں گندم کے علاوہ دس روپئے سے زیادہ مہینہ کا خرچ نہیں ہونا چاہیئے۔اس طرح کل خرچ اڑھائی ہزار روپئے ماہوار ہوگا۔اس میں سے قریباً سترہ سو روپیہ ایسے لوگوں سے واپس مل جائیگا جن کو گزارے ملتے ہیں۔اور باقی صر ف آٹھ سوروپے کا خرچ رہ جائیگا۔گزاروں کی رقم مستقل محافظوں اور دیہاتی مبلغوں کی اگر ملائی جائے تو پانچ ہزار کے قریب بنتی ہے۔آٹھ سو روپیہ پہلا اور پانچ ہزار یہ ملا کر پانچ ہزار آٹھ سو روپیہ بنتا ہے۔جولوگ باہر سے آئے ہوئے وہاں رہیں گے انکی تعداد ساٹھ کے قریب ہوگی۔اور قادیان والوں اور باہر سے آنے والے لوگوں کی تعداد تقریبا ایک سو پچاس ہوگی۔ان لوگوں پر تیل اور صابن وغیرہ کے لئے پانچ پانچ روپے خرچ کئے جائیں تو ساڑھے سات سوروپے کے قریب یہ بنتا ہے۔صفائی وغیرہ اور دوسرے اخراجات دفتری کے لئے قریباً پانچ سو دو پہیہ رکھا جائے تو سات ہزار روپیہ بن جاتا ہے۔یہ کھانے اور گزاروں اور تنخواہوں کو ملا کر رقم بنتی ہے۔لیکن مستقل محافظ اور دیہاتی مبلغ غالباً اپنے گزاروں میں سے کچھ تم اپنے رشتہ داروں کو باہر بھجوانا چاہیں گے۔میرے خیال میں وہ رقم تین ہزار سے کم نہیں ہوگی۔اسکو نکال دیا جائے تو چار ہزار روپیہ ماہوار کا خرچ ہوتا ہے۔اس طرح جو قادیان میں موجود روپیہ ہے اس کے ساتھ آٹھ مہینے تک آسانی سے گزارہ کیا جا سکتا ہے۔(3)۔قادیان میں جو گندم ہے اس میں سے دو ہزار من ڈیڑھ سال کے خرچ کے لئے رکھ لی جائے۔گندم اچھی طرح رکھی جائے تو دو دو تین تین چار چار سال تک رکھی جاسکتی ہے۔باقی چار ہزار من اگر حکمت کے ساتھ فروخت کر دی جائے تو چالیس ہزار روپیہ کی رقم اور آ جائے گی۔اس طرح قریباً ڈیڑھ سال کا خرچ قادیان میں محفوظ رہے گا۔وہاں کے لوگوں کا صرف یہی کام نہیں کہ بیٹھ رہیں۔ان کا کام یہ بھی ہے کہ وہ اپنے آپ کو ایک مستقل آبادی کی صورت دیں اور اسی جگہ مستقل آمدنی پیدا کرنے کی کوشش کریں۔مگر یہ ضرور کوشش ہونی چاہیئے کہ گندم ضبط نہ ہو جائے۔فروخت ہو گر محتاط طریق پر یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ایک شخص کو گندم کی فروخت کالا ئیسنس دلایا جائے۔(4)۔جن لوگوں کے پاس لائیسنس ہیں اور ان کی میعاد دسمبر میں ختم ہوتی ہے۔ان کو اپنے لائیسنسوں کے دوبارہ جاری کرانے کی درخواستیں دے دینی چاہئیں ، ایسا نہ ہو کہ لائیسنس ضبط ہو کر بندوقیں ضبط ہو جائیں اور ہمارے آدمی نہتے ہو جائیں۔اسطرح خزانہ کی حفاظت کی جو بندوقیں ہیں ان کے لئے بھی لائیسنس کے دوبارہ اجراء کی درخواستیں دے دینی چاہئیں۔