تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 290 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 290

جلد اول 260 تاریخ احمدیت بھارت قادیان میں رہنے والے درویشان کے لئے حضرت الصلح الموعود کی زریں ہدایات اور اہم فیصلے قادیان میں منتخب درویشان کے علاوہ باقی سب احمدی احباب جلد پاکستان ہجرت کر جانے والے تھے اور قادیان میں مقامات مقدسہ و شعائر اللہ کی حفاظت کا کام نئے اور مستقل رنگ میں جاری ہونے والا تھا۔اس لئے حضرت سیدنا اصلح الموعود نے 12 / نومبر 1947ء کو امیر مقامی (مولوی جلال الدین صاحب شمس) کے نام ایک مفصل مکتوب میں قادیان میں رہنے والے درویشان کے لئے زریں لمصل ہدایات دیں اور بعض اہم فیصلے فرمائے۔اس مکتوب کا مکمل متن ذیل میں درج کیا جاتا ہے: بسم الله الرحمن الرحيم مگر می شمس صاحب! نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاته آج معلوم ہوا ہے کہ جو کنوائے جانا تھا وہ کل کے کنوائے کی وجہ سے منسوخ ہو گیا ہے۔اب کوشش کر رہے ہیں۔کہ دوبارہ اس کی اجازت مل جائے۔خدا کرے مل جائے تو پھر یہ خط آپ کو مل جائیگا ور نہ جب خدا چاہے گا۔آپ لوگوں کی ملاقات کا موقع میسر آجائے گا۔(1)۔مجھے افسوس سے یہ معلوم ہوا ہے کہ وہاں کوئی تنظیم نہیں۔علماء کو بغیر غور کے باہر نکال دیا گیا ہے۔وہاں صرف مولوی عبد القادر صاحب ( 35 ) اور مولوی ابراہیم صاحب ہیں۔اب ہم کوشش کریں گے۔اگر ہو سکا تو محمد شریف امینی (36) کو بھجوایا جائیگا۔حالانکہ علماء بھی آخری قافلہ میں جاسکتے تھے۔قادیان میں خرچ بے تحاشا ہوا ہے اور تنخواہوں کے خرچ کے علاوہ صرف اکتوبر میں اوپر کے اخراجات کے متعلق ساڑھے چھ ہزار کی تفصیل آئی ہے۔اس سے پہلے ماہ تو سارے مہینہ کی آمدن ہی چھ ہزار تھی۔اکتوبر میں کچھ زیادتی ہوئی نومبر اسی طرح چل رہا ہے کوئی خاص زیادتی نظر نہیں آتی بلکہ کمی کا خطرہ ہے۔ان حالات میں اتنا خرچ کس طرح برداشت کیا جاسکتا ہے۔میرے نزدیک قادیان میں چونکہ غلہ موجود ہے۔دس روپیہ فی کس سے زیادہ کھانے کا خرچ نہیں ہونا چاہیئے۔مستقل محافظوں کو تو گزارہ ملتا ہے۔ان کے گزارہ میں سے ان کا خرچ کا ٹنا چاہیئے۔دیہاتی مبلغین کو بھی