تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 288 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 288

جلد اوّل 258 تاریخ احمدیت بھارت گئی۔نیز قرار پایا کہ ایک آڈیز کا بھی انتخاب کیا جائے۔-3 بیرونی رضا کاروں اور قادیان کے باشندوں میں سے جو احباب منتخب ہوئے ان میں ایک اہم اصول یہ پیش نظر رکھا گیا کہ ان میں علماء سلسلہ بھی ہوں ، ڈاکٹر اور کمپونڈ ر بھی۔اسی طرح آبادی کی سہولت کے لئے دوکانداروں ، دھوبیوں حجاموں ، درزیوں ، نانبائیوں غرض کہ ہر طبقہ کی الگ الگ لسٹیں بنا کر ان کا قرعہ نکالا گیا۔-4 4۔چونکہ اس وقت خیال یہی تھا کہ تین ماہ کے بعد ان کا تبادلہ ہوتا رہے گا اس لئے محافظین ، خدام بیرونی اور قادیان کے باشندوں کے انتخاب میں یہ بات بھی مد نظر رکھی گئی کہ اچھے قابل اور درمیانی قابلیت کےاحباب باری باری رکھے جائیں۔-5 قادیان کی جماعت کے امراء اور ان کے نائبوں کے ناموں کی الگ الگ فہرستیں بنائی گئیں۔امراء مندرجہ ذیل اصحاب بطور امیر تجویز کئے گئے :۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب، حضرت مرزا ناصر احمد صاحب،سید محمود اللہ شاہ صاحب، مولانا جلال الدین صاحب شمس ، ملک غلام فرید صاحب، شیخ بشیر احمد صاحب، چوہدری اسد اللہ خان صاحب، مرزا عزیز احمد صاحب، مرزا مبارک احمد صاحب مرزا ظفر احمد صاحب، مرز امنیر احمد صاحب، مولوی عبد المنان صاحب عمر ، میاں مسعود احمد خاں صاحب، ڈاکٹر کرنل عطاء اللہ صاحب، چوہدری بشیر احمد صاحب، مرزا منصور احمد صاحب، میجر داؤ د احمد صاحب، ملک عبد الرحمن صاحب خادم، چوہدری فقیر محمد صاحب شیخ رفیع الدین صاحب ڈی۔ایس۔پی ریٹائرڈ ، چوہدری محمد انور حسین صاحب، میرمحمد بخش صاحب، شیخ اعجاز احمد صاحب، پیر صلاح الدین صاحب، ڈاکٹر غلام احمد صاحب ،میاں غلام محمد صاحب اختر ، میاں عطاء اللہ صاحب وکیل، مرزا عبدالحق صاحب وکیل، بابو قاسم دین صاحب سیالکوٹ۔نائب امراء نائب امیر کی حیثیت سے مندرجہ ذیل افراد کا انتخاب عمل میں آیا:۔چوہدری محمد علی صاحب ایم۔اے، ملک عزیز الرحمن صاحب، شیخ مبارک احمد صاحب، مشتاق احمد صاحب ظہیر، چوہدری ظہور احمد صاحب ، مرزا بشیر بیگ صاحب، چوہدری عزیز احمد صاحب، مولوی برکات احمد صاحب، راجہ بشیر احمد صاحب ، ملک صلاح الدین صاحب، مولوی عبد الرحمن صاحب جٹ، مولوی قمر الدین صاحب فاضل ، صوفی محمد ابراہیم صاحب ، صوفی غلام محمد صاحب۔