تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 287
تاریخ احمدیت بھارت 257 جلد اوّل اٹھارہ سال سے کم عمر کے سب بچوں اور پچپن سال سے زیادہ عمر کے سب مردوں کو قادیان سے باہر نکال لیا جائے اور جومر داٹھارہ اور پچپن سال کے درمیان عمر رکھتے ہیں ان میں سے قرعہ اندازی کے ساتھ ایک تہائی کو تین ماہ کے لئے قادیان کے اندر رکھا جائے اور دو تہائی کو قادیان سے باہر لے جایا جائے۔اور یہ قرعہ اندازی محلہ دار بنیاد پر ہو۔البتہ انتظامی اہلیت والوں کے علاوہ بعض اور مخصوص گروپ بھی علیحدہ کر دیئے جائیں اور ان میں علیحدہ قرعہ ڈالا جائے۔مثلاً ڈاکٹر، کمپونڈ ر ، وکلاء، مقامی ملٹری اور پولیس سے رابطہ رکھنے والے صدر انجمن احمد یہ اور تحریک جدید کے کارکن ، باورچی ، دھوبی ، نائی وغیرہ۔“ اس سکیم کو عملی جامہ پہنانے کے لئے آخر ماہ تمبر سے حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب۔مکرم مولانا جلال الدین صاحب شمس ، مکرم مولانا ابوالعطاء صاحب اور مکرم مرزا عبد الحق صاحب پر مشتمل کمیٹی قائم ہو چکی تھی جس نے حضور کے نئے فیصلہ کے مطابق قرعہ اندازی سے 275 /افراد کے انتخاب کا کام شروع کر دیا۔(33) مولانا جلال الدین شمس صاحب 14 اکتوبر سے لیکر 15 نومبر 1947ء تک قادیان میں امیر مقامی کے فرائض انجام دیتے رہے۔اور انتخاب درویشان کا آخری مرحلہ انہی کے عہد امارت میں طے پایا۔درویشوں کے انتخاب کا اولین مرحلہ اس سلسلہ میں سب سے قبل تمام احمدیوں سے پوچھا گیا کہ ان میں سے کون کون رضا کارانہ طور پر رہنا چاہتے ہیں بعد ازاں مندرجہ ذیل اصول و قواعد کے پیش نظر قرعہ اندازی کی گئی :۔حضرت مصلح موعودؓ کی اولا د اور باقی خاندان حضرت مسیح موعود اور خاندان حضرت خلیفہ اول کے افراد کے الگ الگ قرعے ڈالے گئے۔-1 -2 صدر انجمن احمد یہ اور تحریک جدید کے قدیم ڈھانچہ کو بنیادی طور پر قائم رکھنے کے لئے کوشش کی گئی کہ صدر انجمن احمدیہ کی مندرجہ ذیل نظارتوں کے نمائندے اور محررین موجودر ہیں :۔نظارت علیا۔نظارت امور عامه و خارجه، نظارت ،ضیافت، محاسب، بیت المال تحریک جدید کے سب صیغوں کی طرف سے ایک نمائندہ کافی سمجھا گیا۔ناظر ضیافت یا ناظر امور عامہ میں سے کسی کو امین بنانے اور دعوت و تبلیغ اور تعلیم و تربیت کی نظارتوں کو دوسری کسی نظارت سے منسلک کرنے کی تجویز کی