تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 286 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 286

جلد اوّل 256 تاریخ احمدیت بھارت میری کتب میں سے انسائیکلو پیڈیا برٹینی کا ضرور آجائے۔وہ سب سے آخری ایڈیشن ہے اسی طرح۔۔۔۔۔ہسٹری آف دی ورلڈ۔انگریزی کتب عربی کتب کے نیچے رکھی جائیں تا ان کی طرف توجہ نہ ہو۔لاریوں تک یہ پارسل اسی طرح بھجوائے جائیں کہ حفاظت سے پہنچ جائیں۔۔۔۔۔۔۔۔5۔امانت کے بکس اگر چھوٹے ہوں تو ایک ردی سے ٹرنک میں بھر کر اچھا تالا لگا کر احتیاط سے بھجوادیے جائیں عبد الحمید صاحب یا چوہدری عزیز احمد صاحب اپنے ساتھ لے آئیں۔اگلے کنوائے میں واپس چلے جائیں۔بشرطیکہ آدمی واپس پہنچ سکتا ہو۔ملٹری کی طرف سے روک نہ ہو ورنہ آنے والے معتبر آدمیوں میں تین چار آدمیوں سے قسمیں لیکر اکٹھی ذمہ واری کے ماتحت بھجوادئے جائیں۔دیہاتی مبلغوں میں سے ہشیار (ہوشیار۔ناقل ) اور مجرب آدمیوں کے یہ کام سپر دکیا جا سکتا ہے۔جو امانتیں بڑے صندوقوں میں ہوں ان کو معتبر آدمیوں کے سامنے کھول کر ایک ٹرنک میں بھر کر بھجوادیا جائے ہر ایک چیز پر کاغذ باندھ کر لکھدیا جائے کہ فلاں شخص کی امانت ہے۔۔۔۔۔۔۔(دستخط) خاکسار مرزا محمود احمد (32) سید نا حضرت الصلح الموعود کا قادیان میں رہنے والے در دیشان کے تعلق سے اہم فیصلہ یہ بات طے تھی کہ احمدی اپنے مرکز کو خالی ہرگز نہیں چھوڑیں گے چاہے حالات کیسے بھی ہوں۔ایک تعداد ہمیشہ یہاں موجود رہے گی۔جس پر حضرت سیدنا اصلح الموعود نے فیصلہ فرمایا کہ آئندہ قادیان میں درج ذیل تقسیم کے ساتھ 250 احمدی مقیم رہیں جو مقامات مقدسہ کی حفاظت کا فریضہ بجالا ئیں:۔قادیان کے تنخواہ دار محافظین : بیرونی رضا کار: باشندگان قادیان: 75 115 60 قبل از میں حضور کی منظور شدہ سکیم کے مطابق یہ فیصلہ بھی ہو چکا تھا کہ ”سب احمدی عورتوں اور