تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 279 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 279

جلد اوّل 250 تاریخ احمدیت بھارت نہیں رہیں گے۔انہوں نے پوچھا کہ مسلم ملٹری کہاں ٹھہرائیں اور کیا مخلوط ملٹری پہرہ پر رکھی جائے ؟ تو صاحبزادہ صاحب نے کہا مسلم ملٹری آپ کے ماتحت ہو جیسے آپ پسند کریں اس پر اعتراض نہیں۔(29) مذکورہ معاہدے کے مطابق جو علاقہ احمدیوں کے لئے مختص کیا گیا وہ مسلکہ نقشے میں واضح کر دیا گیا ہے۔اس لائن کے اندر کا علاقہ جماعت کو دیا گیا اور بعد میں یہی محلہ احمدیہ کے نام سے مشہور ہو گیا۔مرکزی حکومت کی طرف سے اعلیٰ سطح کے وفد کی قادیان میں آمد حضرت خلیفہ المسیح الثانی کا قادیان سے ہجرت فرمانا اس لحاظ سے بھی بہت بابرکت اور مفید ثابت ہوا کہ آپ نے لاہور ( دار الحکومت پنجاب میں قیام فرماتے ہوئے دونوں حکومتوں کے سر براہان اور افسران سے رابطے قائم کئے۔اور ان پر اخلاقی اور قانونی دباؤ ڈالا۔یہی وہ کوششیں تھیں جو کامیاب ثابت ہوئیں اور اکتوبر 1947ء میں خونی یلغار کے بعد حکومت دہلی کی طرف سے مندرجہ ذیل افراد پر مشتمل وفد الگ الگ تاریخوں میں قادیان آیا۔(1) مس سارہ بائی۔(2) مسٹر کرشنا مورتی (3) ڈاکٹر سوفٹ (4) حسین شہید سہروردی (5) میجر جنرل تھمایا (6) ڈاکٹر ڈنشا مہتہ ( گاندھی جی کے خاص نمائندے) یہ وفد قادیان پہنچا اور جماعت احمدیہ کے عہدیداران سے بات چیت کی اس کی تفصیل محترم صاحبزادہ مرزا منور احمد صاحب (جو اس وقت قادیان میں موجود تھے ) کی ایک ڈائری سے ملتی ہے جو تاریخ احمدیت میں ملخصا شائع ہوئی ہے آپ لکھتے ہیں:۔مورخہ 19 ماہ اکتوبر: صبح نو بجے میں سارہ بائی قادیان آئیں۔احمدیوں کی طرف سے حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب۔مولوی جلال الدین صاحب شمس مکرم ملک غلام فرید صاحب۔مرزا عبد الحق صاحب اور مکرم مرزا منور احمد صاحب ان کو ملنے بیت الظفر (کوٹھی چوہدری سر ظفر اللہ خان صاحب واقع دار الانوار حالیہ بجلی گھر قادیان۔ناقل ) گئے۔وہاں جا کر معلوم ہوا کہ مس سارہ بائی کے ساتھ مسٹر کرشنا مورتی اور ڈاکٹر سوفٹ صاحب بھی آئے ہیں۔مؤخر الذکر ہسپتال کی حالت کا جائزہ لینے آئے تھے۔صاحبزادہ مرزا