تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 277
جلد اوّل 248 تاریخ احمدیت بھارت متعلق نہایت معاندانہ ہے۔اگر گورنمنٹ سے اس بارہ میں کوئی سمجھوتہ ہو جائے تو شاید ان کے نظریہ اور رویہ میں کچھ تبدیلی ہو جائے۔(28) جماعت احمدیہ کے عہدیداران اور سرکاری افسران کی گفت و شنید اور باہمی معاہدہ 16 اکتوبر 1947 ء کے بعد قادیان کے حالات کچھ تبدیل ہوئے۔یہ سب سید نا حضرت مصلح موعود خلیفتہ اسیح الثانی کی کوششوں اور دعاؤں کا نتیجہ تھا جو قیام لاہور کے دوران آپ نے فرما ئیں۔پہلے جہاں مفسدہ پرداز وں نے فساد برپا کیا ہوا تھا اور گورنمنٹ بھی احمدیوں کو قادیان سے باہر نکالنے پر تلی ہوئی تھی۔وہاں اب اعلیٰ حکام کے ساتھ احمد یہ جماعت کے اعلیٰ عہدیداران کی گفت وشنید شروع ہوئی اور باہمی معاہدہ بھی ہوا۔اوراس طرح محلہ احمدیہ کی حد بندی عمل میں آئی۔جب سید نا حضرت مصلح موعود خلیفہ اسیح الثانی" کی جانب سے گورنمنٹ سے سمجھوتہ کرنے اور احمد یوں کے لئے دار مسیح اور محلہ احمدیہ کی حدود طے کرنے کی اجازت ملی تو جماعت احمدیہ کے عہدیداران نے سرکاری افسران سے بات چیت شروع کی۔اس وقت کی ملٹری اور فوج کے ذمہ دار افسر اپنے سابقہ رویہ کے مطابق یہی چاہتے تھے کہ کسی نہ کسی طرح احمدیوں کو مکمل طور پر قادیان سے باہر نکال دیا جائے۔لیکن ان میں سے اکثر یہ جانتے اور یقین رکھتے تھے کہ احمدیوں کو قادیان، بالخصوص اس میں موجود شعائر اللہ اور مقدس مقامات سے اتنی عقیدت اور محبت ہے کہ ان میں سے ہر ایک اس کی حفاظت کے لئے اپنے خون کا آخری قطرہ بہا دے گا۔مگر جیتے جی اسے چھوڑ کر نہیں جائے گا۔بعض سرکاری افسران کی یہ بھی تجویز تھی کہ مرکزی حکومت دہلی کو لکھا جائے کہ وہ تحریری حکم نامہ احمدیوں کو قادیان خالی کرنے کے لئے بھجوائے۔شاید وہ یہ جانتے تھے کہ یہ جماعت حکومت وقت کے حکم کی نافرمانی نہیں کرے گی۔لیکن مرکزی حکومت معاہدوں کی پابندی کی وجہ سے ایسا کر نہیں سکتی تھی۔اس ساری صورتحال پر غور و فکر کے بعد سرکاری افسران اس نتیجہ پر پہنچے کہ احمدیوں کی آبادی کے لئے کچھ نہ کچھ علاقہ بہر حال مخصوص کرنا ضروری ہے۔اس پر انہوں نے احمدی نمائندوں سے خود بھی پوچھنا شروع کیا کہ مستقبل سے متعلق ان کی کیا پالیسی ہے؟ احمدی نمائندوں نے انہیں بتایا کہ اگر ہمیں یہاں سے نکلنے پر مجبور کر دیا گیا تب بھی اپنے مقامات مقدسہ کی حفاظت کے لئے مناسب تعداد ہم میں سے ضرور موجود رہے گی۔ابتداء میں جب جماعت کی طرف سے کہا گیا کہ یہاں رہنے والوں کی تعداد ایک ہزار کے