تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 271 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 271

جلد اوّل 242 تاریخ احمدیت بھارت صاحب (اس وقت کے امیر مقامی ) کو بلایا اور ان سے ملاقات کی۔اس ملاقات کے بارہ میں تاریخ احمدیت میں درج تفصیل جو صاحبزادہ صاحب نے خود بیان فرمائی درج کی جاتی ہے:۔وو پرسوں ڈپٹی کمشنر نے پیغام بھیجا کہ میں ملنا چاہتا ہوں۔میں ، مرزا عبد الحق صاحب اور مکرم ملک غلام فرید صاحب کو ساتھ لیکر ان کو ملنے گیا۔ڈپٹی کمشنر صاحب، مجسٹریٹ صاحب علاقہ کے ساتھ شیخ رحمت اللہ صاحب کے مکان محلہ دارالعلوم میں ٹھہرے ہوئے تھے۔میرا دل روز روز کے مظالم اور وعدہ خلافیوں کو دیکھ کر بھرا ہوا تھا۔باوجود یکہ حضور کی ہدایت ہے کہ افسروں سے ادب اور نرمی سے ملو۔مجھ سے کچھ نہ کچھ تلخی ضرور ہوگئی۔ڈپٹی کمشنر صاحب نے کہا آپ کو کیا تکلیف ہے۔میں نے کہا کوئی ایک تکلیف ہو تو بتاؤں اور اگر کسی کی نیت ہماری تکالیف کو دور کرنے کی ہو تو اس کا ذکر بھی کریں۔(اس کے بعد تفصیل سے اپنی حالت بتائی ) ڈپٹی کمشنر صاحب نے پوچھا کہ اب اپنے متعلق آپ کا کیا ارادہ ہے؟ میں نے کہا کہ آپ کا ارادہ ہمارے متعلق کیا ہے؟ کہنے لگے ہم تو یہی چاہتے ہیں کہ آپ یہاں رہیں۔میں نے کہا کہ آپ کے چاہنے کی بات نہیں۔یہ فرما ئیں کہ گورنمنٹ کیا چاہتی ہے۔کہنے لگے کہ میں ہی گورنمنٹ ہوں۔میں اسوقت تیزی میں تھا۔میں نے کہا کہ آپ گورنمنٹ نہیں۔آپ کچھ بھی نہیں۔کہنے لگے کہ آپ کس کو گورنمنٹ کہتے ہیں۔میں نے کہا کہ مشرقی پنجاب کے ہوم منسٹر صاحب اگر ہمیں لکھ دیں کہ وہ ہمیں رہنے دینا چاہتے ہیں تو ہم ان پر اعتبار کریں گے۔ان کے نیچے کسی افسر کی کوئی حقیقت نہیں۔ڈپٹی کمشنر صاحب نے جتنی باتیں کیں ان سب میں اس بات پر زور دیا کہ جولوگ مغربی پنجاب سے لٹ کر آئے ہیں وہ اتنے DESPERATE ہیں کہ ان کو لوٹ مار سے روکنا مشکل ہے۔اس بارہ میں کئی قصے بھی سنائے۔میں نے کہا کہ ان پناہ گیروں کو ہم جانتے ہیں۔ان کی حالت زار کو ہم نے دیکھا ہے۔وہ لوٹنے والے نہیں۔لوٹنے والے یہاں کے۔۔۔۔(مفسدہ پرداز ) یہاں کے۔۔۔(شرپسند) اور ان کی پشت پناہ پولیس اور بعض اوقات ملٹری ہوتی ہے۔دوران گفتگو میں اس نے اصل بات یہ بتائی کہ میں آپ کو بتلاتا ہوں کہ آپ کی جگہ BORDER (سرحد) پر واقع ہے۔اور اگر مشرقی اور مغربی پنجاب کی BORDER پر کوئی INCIDENT ( حادثہ ) ہو تو آپ کی پوزیشن بہت خطرناک ہو جائے گی غالباً اس کا اشارہ اس طرف تھا کہ ایسی حالت میں یا تم ختم ہو جاؤ گے یا قیدی بنائے جاؤ گے۔