تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 270 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 270

تاریخ احمدیت بھارت 241 جلد اول کے احمدیوں کے حق میں پورے ہوئے۔ملائکتہ اللہ کی ایک غیر مرئی روحانی فوج تھی جو قادیان دارالامان میں رہنے والوں کی مدد کر رہی تھی۔ہزارہ سنگھ صاحب کے ایک اور دست راست جسونت سنگھ صاحب ہوا کرتے تھے۔انہوں نے بعد میں اسٹیٹ بنک آف انڈیا ( قادیان) کی موجودہ (2016ء میں ) عمارت کے مشرق میں لکڑی چیرنے کے لئے آرا لگا لیا تھا۔وہ بیان کیا کرتے تھے کہ ہم جب بھی محلہ احمدیہ کی طرف چڑھائی کا ارادہ کرتے خطرناک ہتھیاروں سے فائرنگ کی آواز میں اتنی خوفناک طور پر سنائی دیتیں کہ حملہ آوروں کو آگے بڑھنے کی ہمت نہ ہوتی تھی۔انہوں نے ہی ایک دفعہ خاکسار کو بتایا کہ جماعت احمدیہ کے جو چھوٹے چھوٹے دو ہوائی جہاز تھے اور لاہور سے قادیان اور قادیان سے لاہور جاتے تھے ہم نے بہر حال ان پر کم از کم دس افراد نے یکجائی فائرنگ کی مگر ہوائی جہاز کو کسی قسم کا نقصان پہنچانے یا گرانے میں کامیاب نہ ہو سکے۔بذریعہ خوف و ہراس احمدیوں کو نکالنے کی کوشش اکتوبر 1947 ء کے پہلے ہفتہ میں سول اور فوجی حکام اور دہشت گردوں نے قادیان کو احمدی آبادی سے خالی کروانے کے مقصد سے جو انتہائی ظالمانہ اور خوفناک خونی یلغار کی تھی۔وہ مقصد پورا نہ ہو سکا۔ان کا ارادہ تھا کہ کسی بھی طرح دار مسیح، مسجد مبارک ہمسجد اقصیٰ اور منارۃ المسیح نیز بہشتی مقبرہ سے احمدیوں کو نکال کر ان پر قبضہ کر لیا جائے۔مگر ہر حربہ استعمال کرنے کے بعد بھی یہ خواب شرمندہ تعبیر ہوتا نظر نہیں آرہا تھا۔دار اسیح اور اس کے اطراف کی جانب آنے سے اللہ تعالیٰ کی تقدیر انہیں روک رہی تھی۔ان کے دل ودماغ پر ایسا رعب و خوف طاری تھا کہ ادھر آنے کی جرات نہ ہوتی تھی۔یہ درست ہے کہ نئے آباد شدہ بعض محلوں اور تعلیمی عمارتوں اور کوٹھیوں و مکانات کو بزور طاقت خالی کروالیا گیا تھا۔مگر قادیان کو مکمل طور پر خالی کروانے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی تھی۔بزور باز و قادیان خالی کروانے میں ناکامی کے بعد حکام بالا نے غالباً با ہمی طور پر یہ فیصلہ کر لیا کہ احمدیوں کو بلا کر اس طرح ڈرایا اور خوف زدہ کیا جائے کہ وہ از خودان مقامات مقدسہ کو خالی کر کے راہ فرار اختیار کر لیں۔چنانچہ اس کی شروعات ڈپٹی کمشنر صاحب گورداسپور کی طرف سے ہوئی۔وہ قادیان آئے اور مجسٹریٹ صاحب علاقہ کے ساتھ شیخ رحمت اللہ صاحب کے مکان محلہ دار الرحمت میں ٹھہرے۔مؤرخہ 5 اکتوبر 1947ء کو ڈپٹی کمشنر صاحب گورداسپور نے محترم صاحبزادہ مرزا عزیز احمد