تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 7 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 7

تاریخ احمدیت بھارت 7 جلد اوّل نزدیک آسکے اور ہر چند جان تو ڑ کر دشمن کا لشکر کوشش کرتا تھا کہ توپوں یا بندوقوں کی گولیوں سے ان کو مار دیں مگر کوئی گولی یا گولہ ان پر کارگر نہیں ہوتا تھا۔یہ کرامت ان کی صد با موافقین اور مخالفین بلکہ سکھوں کے منہ سے سنی گئی ہے جنہوں نے اپنے لڑنے والے باپ دادوں سے سند بیان کی تھی۔لیکن میرے نزدیک یہ کچھ تعجب کی بات نہیں اکثر لوگ ایک زمانہ دراز تک فوجوں میں نو کر رہ کر بہت سا حصہ اپنی عمر کا لڑائیوں میں بسر کرتے ہیں اور قدرت حق سے کبھی ایک خفیف سا زخم بھی تلوار یا بندوق کا ان کے بدن کو نہیں پہنچتا۔سو یہ کرامت اگر معقول طور پر بیان کی جائے کہ خدا تعالیٰ اپنے خاص فضل سے دشمنوں کے حملوں سے انہیں بچاتا رہا تو کچھ حرج کی بات نہیں اس میں کچھ شک نہیں ہو سکتا کہ مرزا صاحب مرحوم دن کے وقت ایک پر ہیبت بہادر اور رات کے وقت ایک با کمال عابد تھے اور معمور الاوقات اور متشرع تھے۔اس زمانہ میں قادیان میں وہ نور اسلام چمک رہا تھا کہ ارد گرد کے مسلمان اس قصبہ کو مکہ کہتے تھے“۔(7) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے آباؤ اجداد کی قادیان سے بیگووال کی طرف ہجرت کم و بیش تین سوستر (370) سال بانی جماعت احمدیہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے آباؤ اجداد نے اپنے بسائے ہوئے شہر میں امن وسکون سے زندگی بسر کی۔مرزا گل محمد صاحب کی وفات 1800ء میں ہو گئی۔ان کے بعد ان کے بیٹے ( یعنی حضرت مسیح موعود کے دادا) مرزا عطا محمد صاحب نے ریاست قادیان کی زمام حکومت سنبھالی 1802ء یا 1803ء میں سکھوں کا ایک گروہ جو رام گڑھیہ کہلاتا تھا دھوکہ سے قادیان جو اس وقت ایک قلعہ کی صورت میں تھا داخل ہوا اور اس پر قبضہ کر لیا۔مرزا عطاء محمد صاحب اپنے افراد خاندان سمیت بیگووال ریاست کپور تھلہ ہجرت کر گئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے آباؤ اجداد کی قادیان سے ہجرت کا ذکر کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:۔" مرزا گل محمد صاحب مرحوم کے عہد ریاست کے بعد مرزا عطا محمد صاحب کے عہد ریاست میں جو اس عاجز کے دادا صاحب تھے یک دفعہ ایک سخت انقلاب آگیا اور ان سکھوں کی بے ایمانی اور بد ذاتی اور عہد شکنی کی وجہ سے جنہوں نے مخالفت کے بعد محض نفاق کے طور پر مصالحہ اختیار کر لیا تھا انواع