تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 254
تاریخ احمدیت بھارت 225 جلد اوّل پاکستان گورنمنٹ کی توجہ کے قابل قادیان میں اس وقت نواحی علاقہ جات سے جمع شدہ مسلمانوں کی تعداد پچاس ہزار کے قریب ہے۔یہ لوگ چاروں اطراف سے۔۔۔۔( غیر مسلم فوج کے نرغہ میں گھرے ہوئے ہیں۔یہ وہ لوگ ہیں جو قادیان سے ملحقہ علاقوں سے اپنا سب کچھ لٹا کر آئے ہیں اور اب بے بسی اور خاک بسری کے عالم میں مقیم ہیں ، حالات روز بروز بد سے بدتر ہو رہے ہیں۔اگر گورنمنٹ کی طرف سے جلد ان کو نکالنے کا انتظام نہ کیا گیا تو ڈر ہے انہیں بھیڑ بکریوں کی طرح ذبح نہ کر ڈالا جائے۔خلیفہ صاحب قادیان اپنی جماعت کو یہی مشورہ دے رہے ہیں کہ قادیان کی حفاظت کے لئے آخری دم تک وہیں رہے۔خلیفہ صاحب کی یہ ہمت قابل داد ضرور ہے۔لیکن حالات سے بے نیاز ہوکر کام کرنا اور ہزار ہا نہتے لوگوں کو اتنی بڑی آزمائش میں ڈالنا مناسب نہیں۔قادیان میں کر فیول گا ہوا ہے۔وہاں محلوں میں تمام لوگوں کی سختی سے تلاشی لی جارہی ہے۔بیرونی محلہ جات پر حملے ہور ہے ہیں۔نزدیک کے دیہات پر۔۔۔۔(مفسدہ پردازوں) کا قبضہ ہو چکا ہے اور کچھ عجب نہیں قادیان میں بھی قتل عام شروع ہو جائے۔اس وقت افرا تفری کے عالم میں اگر لوگ وہاں سے نکلے تو پھر اس قدر نفوس موت کے گھاٹ اتر جائیں گے جن کا اندازہ لگانا مشکل ہوگا اور مشرقی پنجاب کی پراپیگینڈا مشینری اسے معمولی سا حادثہ قرار دے کر دنیا کی نظروں میں دھول ڈالنے میں کامیاب ہو جائے گی۔یہ محض خام خیالی ہے کہ وہاں بہت دیر تک مقابلہ میں جمے رہنے سے اس بات کو اس قدر شہرت ملیگی کہ ہندوستانی حکومت مرعوب ہوکر قادیان کو تباہ کرنے سے اپنا ہاتھ کھینچ لے گی۔اس سلسلہ میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ ابھی تک ہزاروں خواتین اور بچے موجود ہیں جن کو وہاں سے نکالا نہیں جاسکا۔کیا ان سب کو اس لئے موت کے منہ میں چھوڑ دیا جائے کہ خلیفہ صاحب قادیان سے ہجرت نہیں کرنا چاہتے۔یہ معاملہ ایسا نہیں کہ ایک شخص کی مرضی پر اسے چھوڑ دیا جائے۔پاکستان گورنمنٹ کو چاہئیے کہ پیشل ٹرینیں چلا کر جس قدر لوگوں کو وہاں سے نکالا جا سکتا ہے نکال لے اور ہم خلیفہ صاحب قادیان سے بھی یہی گزارش کریں گے کہ نہتے لوگوں کو اس کس مپرسی کے عالم میں چھوڑ دینا ٹھیک نہیں۔بلکہ وہ لوگوں کو وہاں لا کر ہر طرح سے مسلح اور منظم کریں تو جہاں ایک طرف یہ اقدام پاکستان حکومت کو تقویت کا موجب ہوگا وہاں ہزار ہا بے گناہ لوگوں کو موت کے پنجے سے بھی نکال لائے گا۔(شیخ محمد طفیل ایم۔اے)۔“