تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 245
جلد اوّل 216 تاریخ احمدیت بھارت کہ تم قادیان پر حملہ کرو۔اگر تم قادیان پر حملہ نہیں کرو گے تو ہم تم پر ہی گولی چلا دیں گے۔پولیس کی امداد سے ڈا کہ 27 ستمبر کو۔۔۔۔(مفسدہ پردازوں) نے پولیس کی مدد سے مظلوم پناہ گزینوں کو لوٹنا شروع کر دیا۔پولیس نے کوئی مداخلت نہیں کی بلکہ پناہ گزینوں کے پانچ ہزار مویشی لوٹ لئے گئے اور جب تھا نہ میں کہا گیا کہ یہ اندھیر نگری کیا ہے تو جواب دیا گیا کہ چونکہ قادیان میں چارا نہیں اس لئے ان مویشیوں کے مر جانے کا خطرہ تھا لہذا یہ آزاد کر دیئے گئے ہیں۔مشرقی پنجاب کی حکومت کے کارنامے قادیان میں شدید بارش ہوئی ہے ایسی بارش کہ جس کی مثال نہیں ملتی۔غریب پناہ گزینوں نے تعلیم الاسلام کالج ، جامعہ احمدیہ، ہائی اسکول ، بورڈنگ ہاؤس ،نصرت گرلز ہائی اسکول اور محلہ جات کے مکانوں میں پناہ لی۔بعض باہر ہی بھیگ گئے اور پھر اس پر پولیس کا جابرانہ رویہ کسی شخص کو پکڑ لیا اور اس کی جیب خالی کروالی کسی کے گھر میں گھس گئے اور لوٹ مار شروع کر دی۔کسی کے مویشی ہانک لئے کسی کا زیور اور روپیہ چھین لیا۔گویا یوں معلوم ہوتا ہے کہ مشرقی پنجاب میں کوئی حکومت ہی نہیں اور پولیس اور۔۔۔(غیر مسلم ) ملٹری کو ہر قسم کا جبر و تشد دکرنے کی کھلی چھٹی دے دی گئی ہے۔تلاشیاں کی جارہی ہیں باوجود اس امر کے کہ پاکستان اور ہندوستان کی حکومتوں میں ایک دوسرے کے کنوائے کی تلاشی نہ لینے کا معاہدہ ہو چکا ہے اور پاکستان کی حکومت اس معاہدے پر پورا پورا عمل کر رہی ہے مگر قادیان سے جو قافلہ روانہ ہوتا ہے اس کی وہیں زبر دست تلاشی لی جاتی ہے۔اس تلاشی میں تو بعض لوگوں سے گھڑیاں قلمیں اور بعض اس قسم کی دوسری چیزیں بھی چھین لیں اور ادھر مغربی پنجاب میں غیر مسلموں کے پوڈر اور لپ اسٹک کے بل بن رہے ہیں۔بھوکوں مارنے کی سازش یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ مغربی پنجاب میں جہاں جہاں ہندو اور سکھ جمع ہیں، پاکستان کی حکومت ان کی خوراک کا معقول بندوبست کرتی ہے۔حتی کہ ان کے لئے پھل ، ترکاریاں اور دودھ بھی سرکاری طور پر مہیا کیا جاتا ہے۔مگر قادیان میں حالت یہ ہے کہ پولیس نے 29 ستمبر کو منادی کرادی کہ قادیان میں جس