تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 238
تاریخ احمدیت بھارت 209 جلد اوّل آپ نے کہا کہ حد بندی کے مسئلہ کو دوبارہ اٹھایا جائے۔میرے خیال میں بیاس سے اس طرف کا تمام علاقہ پاکستان میں شامل ہونا چاہیئے۔گورداسپور مسلم اکثریت کا علاقہ ہے۔سرسیرل نے۔۔۔۔(مفسدہ پردازوں) کے جذبہ جنگ کی تسکین کے لئے اسے۔۔۔۔(مفسدہ پردازوں اور شر پسندوں) کے حوالے کر دیا۔لیکن۔۔۔۔(مفسدہ پردازوں نے) پھر بھی فتنہ پردازی کے جو طے شدہ سکیم کے مطابق معلوم ہوتی ہے۔مسٹر وکٹر نشد (ایڈیٹر ریجین) نے برطانیہ کو تمام فسادات کا ذمہ وار ٹھہرایا۔مسٹر بیڈ فورڈ ریٹائرڈ چیف انجنئیر کینال پنجاب نے پر جوش تقریر میں کہا میں۔۔۔۔(مفسدہ پردازوں ) کو اچھی طرح جانتا ہوں۔ان کا واحد علاج رائفل ہے۔اگر حکومت پاکستان نے مزید نرمی سے کام لیا تو یقین جانئے۔۔۔۔(مفسدہ پردازوں) کا اگلا قدم مغربی پنجاب میں ہو گا۔“ چوہدری مشتاق احمد باجوہ امام لندن ماسک نے اپنے صدارتی خطبہ میں کہا ”مسلمانوں کو منظم ہونا چاہئیے وگر نہ پین کی طرح ہندوستان میں بھی ان کا برا حال ہوگا۔“ 4 اخبار ”زمیندار“ نے اپنے نامہ نگار خصوصی کی ایک اور رپورٹ مع اپنے تعارفی نوٹ کے حسب ذیل الفاظ میں شائع کی : اس وقت جبکہ مشرقی پنجاب کے تمام اضلاع قریباً مسلمانوں سے خالی ہو چکے ہیں قادیان میں کم از کم ڈیڑھ لاکھ پناہ گزین جمع ہیں جن کو پاکستان لانے کی ضرورت ہے۔قادیان اور اس کے نواحی دیہات کی مفصل رپورٹ جو ہمارے نامہ نگار خصوصی نے قادیان کے دورے کے بعد مرتب کی ہے درج ذیل ہے۔قادیان کے ساتھ اس کے ملحقہ دیہات بھی جوانمردی کے ساتھ۔۔۔۔(مفسدہ پردازوں) کے مسلح جتھوں کی روک تھام کر رہے ہیں۔لیکن یہ بات پوری ذمہ داری اور یقین کے ساتھ کہی جاتی ہے کہ مشرقی پنجاب کی حکومت مسلمانوں کو مشرقی پنجاب سے نکل جانے پر خود مجبور کر رہی ہے۔قادیان اور اس کے دیہات اس لئے بیٹھے تھے کہ جب تک حکومت خود ہمیں نکل جانے کے لئے نہیں کہے گی ہم اپنے گاؤں خالی نہیں کریں گے۔چنانچہ قادیان کے ذلیل خصلت اور فتنہ پرداز۔۔۔تھانے دار نے پولیس اور۔۔۔ملٹری کی مدد سے مسلمانوں کے گاؤں زبر دستی ان سے خالی کروائے اور ان دیہات کے معزز مسلمانوں کو بے حد بے عزت کیا۔موضع ڈیریوالہ کا ذیلدار چوہدری سلطان ملک اس علاقے