تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 224 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 224

تاریخ احمدیت بھارت 195 جلد اوّل اور دو تین کوششوں کے بعد نڈھال ہو کر گر گیا۔اس پر میاں عبد الحق صاحب نے کہا کہ میں جا کر ان دونوں کے بچانے کی کوشش کرتا ہوں اور وہ کو دکر اس تختہ پر چڑھ گئے۔ان کو دیکھتے ہی ایک پولیس مین دوڑا ہوا آیا اور ایک پاس کے مکان سے صرف چند فٹ کے فاصلہ پر سے ان کی کمر میں گولی مار دی۔اور وہ وہیں فوت ہو گئے۔جب حملہ آور بگل بجنے پر دوڑ گئے تو زخمی غلام محمد صاحب اور اس بڑھیا کو اس مکان سے نکالا گیا۔چونکہ ہسپتال پر پولیس نے قبضہ کر لیا ہے۔اور وہاں سے مریضوں کو زبردستی نکال دیا ہے۔اور تمام ڈاکٹری آلات اور دوائیاں وہاں ہی پڑی ہیں۔مریضوں اور زخمیوں کا علاج نہیں کیا جا سکتا اور یوں بھی غلام محمد صاحب شدید زخمی تھے۔معمولی علاج سے بچ نہ سکے اور چند گھنٹوں میں فوت ہو گئے۔مرنے سے پہلے انہوں نے ایک دوست کو بلایا اور اسے یہ باتیں لکھوائیں کہ ” مجھے اسلام اور احمدیت پر پکا یقین ہے۔میں اپنے ایمان پر قائم جان دیتا ہوں۔میں اپنے گھر سے اسی لئے نکلا تھا کہ میں اسلام کے لئے جان دوں گا۔آپ لوگ گواہ رہیں کہ میں نے اپنا وعدہ پورا کر دیا اور جس مقصد کے لئے جان دینے کے لئے آیا تھا میں نے اس مقصد کے لئے جان دے دی۔جب میں گھر سے چلا تھا تو میری ماں نے نصیحت کی تھی کہ بیٹا دیکھنا پیٹھ نہ دکھانا۔میری ماں سے کہہ دینا کہ تمہارے بیٹے نے تمہاری وصیت پوری کر دی اور پیٹھ نہیں دکھائی اور لڑتے ہوئے مارا گیا۔“ چونکہ ظالم پولیس نے سب راستوں کو روکا ہوا ہے مقتولین کو مقبروں میں دفن نہیں کیا جا سکا اس لئے جو لوگ فوت ہوتے ہیں یا قتل ہوتے ہیں انہیں گھروں میں ہی دفن کیا جاتا ہے ان نوجوانوں کو بھی گھروں میں ہی دفن کرنا پڑا۔اور میاں غلام محمد اور عبد الحق دونوں کی لاشیں میرے مکان کے ایک صحن میں پہلو بہ پہلوسپردخاک کر دی گئیں۔یہ دونوں بہادر اور سینکڑوں اور آدمی اس وقت منوں مٹی کے نیچے دفن ہیں لیکن انہوں نے اپنی قوم کی عزت کو چار چاند لگا دیئے ہیں۔مرنے والے مر گئے۔انہوں نے بہر حال مرنا ہی تھا۔اگر اور کسی صورت میں مرتے تو ان کے نام کو یا درکھنے والا کوئی نہ ہوتا اور وہ اپنے دین کی حفاظت اور اسلام کا جھنڈا اونچارکھنے کے لئے مرے ہیں۔اس لئے حقیقت وہ زندہ ہیں۔اور آپ ہی زندہ نہیں بلکہ اپنے بہادرانہ کاموں کی وجہ سے آئندہ اپنی قوم کو زندہ رکھتے چلے جائیں گے۔ہر نوجوان کہے گا کہ جو قربانی ان نوجوانوں نے کی وہ ہمارے