تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 220
تاریخ احمدیت بھارت 191 جلد اول سیدنا حضرت مصلح موعود کا تیسرا مضمون بعنوان " قادیان کی خونریز جنگ لمصل ان دو مضامین کے بعد سید نا اصلح الموعودؓ نے اپنا تیسرا اہم مضمون جو قادیان کی خونریز جنگ“ کے نام سے لکھا، اس مضمون کے ذریعے پہلی بار دنیا کے سامنے قادیان پر ہوئے حملہ کی اہم تفصیلات منظر عام پر لائی گئیں۔اس مضمون کا مکمل متن قارئین کے ازدیاد علم کی خاطر یہاں پیش کیا جاتا ہے: اعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيطنِ الرَّحِيمِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ هُوَ النَّ اصير قادیان کی خونریز جنگ از حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ ) اکتوبر کی پہلی تاریخ کو جب گورداسپور کی ملٹری نے قادیان میں کنوائے جانے کی ممانعت کر دی تو میں اسی وقت سمجھ گیا تھا کہ اب قادیان پر ظلم توڑے جائیں گے۔لاہور میں کئی دوستوں کو میں نے یہ کہہ دیا تھا اور مغربی پنجاب کے بعض حکام کو بھی اپنے خیال کی اطلاع دے دی تھی۔اس خطرہ کے مدنظر ہم نے کئی ذرائع سے مشرقی پنجاب کے حکام سے فون کر کے حالات معلوم کئے۔لیکن ہمیں یہ جواب دیا گیا کہ قادیان میں بالکل خیریت ہے اور احمدی اپنے محلوں میں آرام سے بس رہے ہیں۔صرف سڑکوں کی خرابی کی وجہ سے کنوائے کو روکا گیا۔لیکن جب اس بات پر غور کیا جاتا کہ لاہورایویکویشن کمانڈر کی طرف سے مشرقی پنجاب کے ملٹری حکام کو بعض کنوائز کی اطلاع دی گئی۔اور انہیں کہا گیا کہ اگر قادیان کی طرف کنوائے جانے میں کوئی روک ہے تو آپ ہم کو بتادیں۔میجر چھنی سے بھی پوچھا گیا اور برگیڈیر پرنج پائے متعینہ گورداسپور سے بھی پوچھا گیا۔تو ان سب نے اطلاع دی کہ قادیان جانے میں کوئی روک نہیں۔باوجوداس کے جب کنوائے گئے تو ان کو بٹالہ اور گورداسپور سے واپس کر دیا گیا۔یہ واقعات پہلے شائع ہو چکے ہیں۔ان واقعات نے میرے شبہات کو اور بھی قوی کر دیا۔آخر ایک دن ایک فون جو قادیان سے ڈپٹی