تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 218
تاریخ احمدیت بھارت 189 جلد اوّل ہے۔اس جرم میں ہلاک کر دیا جائے کہ وہ کیوں مشرقی پنجاب میں سے نکلتے نہیں۔منہ سے کہا جاتا ہے ہم کسی کو نکالتے نہیں۔لیکن عمل سے اس بات کی تردید کی جاتی ہے۔یہ بات اخلاقی لحاظ سے نہایت ہی گندی اور نہایت ناپسندیدہ ہے۔جماعت احمدیہ نے مسٹر گاندھی کے پاس بھی بار بارا پیل کی ہے، تاریں بھی دی ہیں اور بعض خطوط بھی لکھے ہیں لیکن مسٹر گاندھی کو ان چھوٹی چھوٹی باتوں کی طرف توجہ کرنے کی فرصت نہیں ہمسٹر نہرو کو بھی اس طرف توجہ دلائی گئی ہے مگر وہ بھی بڑے کاموں میں مشغول ہیں۔چند ہزار بیگناہ مسلمانوں کا مارا جانا ایسا معاملہ نہیں ہے جس کی طرف یہ بڑے لوگ توجہ کر سکیں۔ایک چھوٹی سی مذہبی جماعت کے مقدس مقامات کی ہتک ان بڑے آدمیوں کے لئے کوئی قابل اعتناء بات نہیں۔اگر اس کا سوواں حصہ بھی انگریز قادیان میں بس رہے ہوتے اور ان کی جان کا خطرہ ہوتا تولا رڈ مونٹ بیٹن کو حقوق انسانیت کا جذبہ فوراً بے تاب کر دیتا۔مسٹر گاندھی بیسیوں تقریریں انگریزوں کے خلاف کارروائی کرنے والوں کے متعلق پبلک کے سامنے کر دیتے۔مسٹر نہرو کی آفیشل مشین فورا متحرک ہو جاتی۔مگر کمزور جماعتوں کا خیال رکھنا خدا تعالیٰ کے سپر د ہے۔وہی غریبوں کا والی وارث ہوتا ہے یا وہ انہیں ایسی تکالیف سے بچاتا ہے اور یا پھر وہ ایسے مظلوموں کا انتقام لیتا ہے۔ہم تمام شریف دنیا کے سامنے اپیل کرتے ہیں کہ اس ظلم کے دور کرنے کی طرف توجہ کریں۔ہم نہیں سمجھ سکتے کہ پاکستان گورنمنٹ اس ظلم کو دور کرنے میں کیوں بے بس ہے۔بجائے اس کے کہ ان باتوں کو سن کر پاکستان گورنمنٹ کے متعلقہ حکام کوئی موثر قدم اٹھاتے انہوں نے بھی یہ حکم دے دیا ہے کہ چونکہ قادیان کی سڑک کو مشرقی پنجاب نے نا قابل سفر قرار دیا ہے، اس لئے آئندہ ہماری طرف سے بھی کوئی کانوائے وہاں نہیں جائے گی۔حالانکہ انہیں چاہئے یہ تھا کہ جب مغربی پنجاب کے علاقوں میں بھی بارش ہوئی ہے تو ان علاقوں کو بھی نا قابل سفر قرار دے دیتے۔اور مشرقی پنجاب جانے والے قافلوں کو روک لیتے۔قادیان کے مصائب کو کم کرنے کا ایک ذریعہ یہ تھا کہ قادیان کو ریفیوجی کیمپ قرار دے دیا جاتا۔لیکن دونوں گورنمنٹیں یہ فیصلہ کر چکی ہیں کہ ریفیوجی کیمپ وہی گورنمنٹ مقرر کرے گی جس کی حکومت میں وہ علاقہ ہو۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جو معاہدہ ہو اس کی پابندی کی جائے۔لیکن سوال تو یہ ہے کہ اگر بار بار توجہ دلانے کے بعد بھی ہندوستان یونین مسلمان پناہ گزینوں کے بڑے بڑے کیمپوں کو ریفیوجی کیمپ قرار نہیں دیتی تو پاکستان کی حکومت کیوں مشرقی پنجاب کے پناہ گزینوں کے نئے مقامات کو ریفیوجی کیمپ قرار دے