تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 202 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 202

تاریخ احمدیت بھارت 173 جلد اوّل 12 - 19 ستمبر 1947ء کو سید محبوب عالم صاحب بہاری قادیان میں شہید کئے گئے۔سید صاحب جو ایک نیک اور بے نفس بزرگ تھے۔19 ستمبر 1947ء کی صبح کی نماز کے بعد ریلوے لائن کے ساتھ ساتھ سیر کے لئے گئے۔لیکن ڈی۔اے۔وی سکول قادیان کے قریب موضع رام پور کے مقابل پر کسی نے انہیں گولی کا نشانہ بنا کر شہید کر دیا۔شروع میں تو ان کی شہادت مشکوک رہی اور انہیں لا پتہ تصور کیا جاتا رہا۔لیکن اس واقعہ کے تین دن بعد ایک مسلمان دیہاتی نے جو پناہ گزین کے طور پر باہر سے آیا تھا۔سید صاحب کے داما دسید صادق حسین صاحب کو بتایا۔میں نے اس حلیہ کی ایک مسلمان نعش جس کے گلے میں نیلا کر نہ تھا ریلوے لائن کے قریب دیکھی ہے۔چونکہ سید صاحب مرحوم اسی طرف سیر کو گئے تھے اور یہ حلیہ بھی ان سے ملتا تھا۔اس لئے اس رپورٹ میں شک کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔انا للہ وانا الیہ راجعون“ (بحوالہ افضل 10 فروری 1948 ء صفحہ 3، حاشیہ تاریخ احمدیت جلد 10 صفحہ 160 مطبوعہ 2007ء) سید محبوب عالم صاحب بہاری کے بارے میں حضرت خلیفہ المسح الرابع" نے اپنے خطبہ جمہ فرمودہ 14 مئی 1999ء میں تفصیل سے ذکر کیا ہے جو آئندہ صفحات میں شامل کیا جارہا ہے۔کرفیو کا نفاذ دراصل قادیان پر براہ راست تشدد کا آغاز تھا جس کا پہلا نتیجہ یہ ہوا کہ احمدیوں اور دوسرے مسلمانوں کو صبح اور مغرب و عشاء کی نمازیں مسجدوں میں ادا کرنے کی عملاً ممانعت کر دی گئی۔-13 ( حاشیہ تاریخ احمدیت جلد 10 صفحہ 161 مطبوعہ 2007ء) -14 حضرت امیر المومنین خلیفه لمسیح الثانی قبل از میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب اور حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کو بغرض مشورہ آنے کا ارشاد فرما چکے تھے۔جس پر حضرت قمر الانبیاء نے حضور کی خدمت میں لکھا تھا:۔مجھے تو حضور نے جب سے قادیان سے جاتے ہوئے امیر مقرر فرمایا تھا ، میں نے اس وقت سے سمجھ لیا تھا اور دل میں عہد کر لیا تھا کہ اب یہ زندگی اور موت کی بازی ہے انشاء اللہ اسے خدا کی تو فیق کے ساتھ نباہنے کی کوشش کروں گا۔اس لئے میں تو صرف اس وقت باہر جاؤں گا جب کہ حضور کا معین حکم ہوگا۔مگر میرا خیال ہے کہ میاں ناصر احمد کوجلد باہر بھجوادیا جائے۔کیونکہ ان کے متعلق قانونی پیچیدگی کا زیادہ اندیشہ ہے۔سیدنا مصلح الموعود کی طرف سے 17 ستمبر (1947ء) کو ہدایت پہنچی کہ مسجد مبارک کا قرعہ فوراً ڈال لیا جائے اور اگر مرزا بشیراحمد صاحب کا نام اس قرعہ میں نکل آئے تو انہیں فوراً بھجوادیا جائے۔اس پر جیسا کہ آپ خود فرماتے ہیں۔آپ کے دل پر بھاری بوجھ پڑ گیا کہ میں کام کی تکمیل سے قبل میدان عمل سے باہر جارہا ہوں۔الفضل 5 اکتوبر 1947ء صفحہ 3 کالم 4، بحوالہ حاشیہ تاریخ جلد 10 صفحہ 162 مطبوعہ 2007ء) لمصل