تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 179
تاریخ احمدیت بھارت 163 جلد اول تھے۔پرانے لوگ بحیات تھے۔ان میں سے ایک معمر سکھ دوست جو وہاں کے قدیمی باشندہ تھے انہوں نے بتایا کہ مراد پورہ ایک مسلمان فقیر کا بسایا ہوا گاؤں ہے۔اور اس فقیر کی قبر بھی باہر بڑے قبرستان میں موجود ہے تقسیم ملک کے وقت اس کی آبادی ہزار بارہ سو افراد پر مشتمل تھی۔مسلمان اور دوسرے مذاہب کے لوگ تقریبا نصف نصف تھے۔مسلم آبادی میں سے بہت سے گھرانے احمدی تھے۔سب لوگ امن اور سکون سے مراد پورہ میں رہتے تھے اور آپس میں ان کا بہت پیار کا سلوک تھا۔ایک دوسرے کی خوشی غم میں شریک ہوتے تھے۔آزادی کے اعلان کے بعد اس کے نزدیکی دیہاتوں میں فسادات شروع ہو گئے مگر یہاں امن و امان برقرار رہا۔چند دنوں کے بعد باہر سے آئے ہوئے حملہ آوروں نے مراد پورہ میں ایک احمدی کو شہید کر دیا اور کچھ دوسرے مسلمان بھی زخمی ہوئے۔لوٹ مار کی واردات بھی ہوئی۔اس المناک قتل کے بعد یہاں کے مسلمان ہر طرف سے خطرہ محسوس کرنے لگے۔خاص طور سے وہ اپنی عورتوں اور بچوں کے بارہ میں بہت فکر مند تھے۔ہم نے احمدیوں کو تسلی دی کہ آپ فکرمند نہ ہوں ہم آپ کی ہر طرح سے حفاظت کریں گے مگر ان کا کہنا یہ تھا کہ ہمیں بیرونی مفسدہ پردازوں سے بہت خطرہ ہے۔ایک صبح جب ہم مسلمانوں کے گھروں کی طرف گئے تو ہم نے دیکھا کہ کوئی ایک مسلمان بھی اپنے گھر میں نہیں ہے۔اور ان کا سامان بھی اسی طرح گھروں میں رکھا ہوا ہے۔اور گھروں میں تالے لگے ہوئے ہیں اور اس معمر غیر مسلم نے بتایا کہ بعد میں ہمیں علم ہوا کہ قادیان سے ایک جماعت آئی تھی وہ ان سب مسلمانوں کو نکال کر لے گئی۔احمدی تو بحفاظت قادیان چلے گئے مگر قرب وجوار کے دیہاتوں میں بہت قتل و غارت ہوئی۔اور شاید ہی کوئی مسلمان بچا ہو۔مسلمانوں کی بہت سی عورتیں قرب و جوار میں غیر مسلموں کے گھروں میں موجود ہیں جو اسی زمانہ میں یہاں رکھ لی گئیں تھیں۔تاریخ احمدیت میں مذکور ہے کہ: 6 ستمبر 1947ء قادیان کے جنوبی جانب مراد پور گاؤں کا ایک احمدی۔۔۔۔(مفسدہ پردازوں) نے شہید کر دیا اور بعض دوسرے احمدیوں کے اموال لوٹ لئے۔‘(44) اس غیر مسلم معمر شخص کے بیان کی بعض دوسرے احباب نے بھی تصدیق کی۔اس واقعہ سے علم ہوتا ہے کہ احمدی نوجوانوں نے اپنے آپ کو خطرات میں ڈالتے ہوئے مراد پورہ سے احمدی افراد کو بحفاظت قادیان پہنچایا۔فجزاهم الله احسن الجزاء۔