تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 169 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 169

تاریخ احمدیت بھارت 153 جلد اول معرکہ سٹھیالی اور احمدی شہید قادیان سے شمال کی طرف گورداسپور جاتے ہوئے موضع سٹھیالی واقع ہے۔صوفی غلام احمد صاحب درویش اسی گاؤں سے تعلق رکھتے تھے اور مستقل خدام میں سے تھے۔ان کی وفات مؤرخہ 7 جنوری 2004ء کو ہوئی اور بہشتی مقبرہ قادیان میں تدفین ہوئی۔اسم بامسمی صوفی مزاج درویش انسان تھے۔زمانہ درویشی بڑے صبر سے گزارا۔وہ بتایا کرتے تھے کہ آزادی کے اعلان پر ابھی دو ہفتے بھی نہ گزرے تھے کہ مفسدہ پردازوں نے ہمارے گاؤں سٹھیالی کا محاصرہ کر لیا۔اور گاؤں کو مسلمانوں سے خالی کروانے کے لئے ہر طرح کا دباؤ ڈالا جانے لگا۔حصار روز بروز تنگ ہونے لگا۔سب سے زیادہ اہم اور نازک ذمہ داری احمدی اور مسلمان عورتوں کو بحفاظت گاؤں سے نکالنے کی تھی۔مسلمان کچھ کرنے کی حیثیت میں نہ تھے۔اس صورتحال کی اطلاع قادیان بھجوائی گئی۔چنانچہ کچھ نو جوانوں کو سٹھیالی بھجوایا گیا۔انہوں نے حالات کا جائزہ لیا۔مقامی افراد جماعت سے مشورہ کیا۔بعد ازاں وہاں جو کچھ ہوا اس کا مختصر ذکر تاریخ احمدیت میں تحریر ہے۔26 اگست کو جناب شیر ولی صاحب کے حکم سے صوبیدار عبدالمنان صاحب دہلوی ،عبد السلام صاحب سیالکوٹی، حوالدار میجر محمد یوسف صاحب گجراتی محمد اقبال صاحب ،عبدالقادر صاحب کھارے والے ، غلام رسول صاحب سیالکوئی فضل احمد صاحب اور عبدالغفار صاحب کے ہمراہ سٹھیالی روانہ کئے گئے جہاں۔۔۔۔مفسدہ پردازوں) نے رائفل ہشین گن، برین گن اور گرنیڈ 36 کا بے دریغ استعمال کیا۔جمعدار محمد اشرف صاحب اور صو بیدار عبدالمنان صاحب دہلوی اور محمود احمد صاحب عارف تینوں بڑی بہادری دلیری اور جرات سے دفاع کر رہے تھے کہ یکا یک برین گن کا ایک برسٹ جمعدار محمد اشرف صاحب کے سر پر لگا اور آپ اپنے مولائے حقیقی کے حضور پہنچ گئے۔اس معرکہ میں صوبیدار عبدالمنان صاحب زخمی ہوئے اور آپ کے سینے اور منہ پر گولیاں لگیں اسی طرح فضل احمد صاحب کے گھٹنے میں مشین گن کی گولی پیوست ہوگئی جو قادیان میں ڈاکٹر میجر شاہ نواز خان صاحب نے اپریشن کر کے نکالی۔(41) صوفی صاحب بتایا کرتے تھے کہ احمدی جوانوں نے ایسی جرات اور دلیری سے دشمنوں کا مقابلہ کیا کہ وہ پسپائی پر مجبور ہو گئے۔جس کے نتیجہ میں تمام احمدی و مسلمان آبادی بخیریت قادیان پہنچ گئی۔اللہ تعالیٰ شہید جمعدار محمد اشرف صاحب کے درجات بلند فرمائے جنہوں نے اپنی جان قربان کر کے سینکڑوں احمدی افراد کی جان بچائی اور سب سے بڑھ کر احمدی خواتین کی عزت و وقار پر آنچ نہیں آنے دی۔الحمد للہ۔