تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 159 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 159

تاریخ احمدیت بھارت 143 جلد اول ان ہلاکت خیز سرگرمیوں میں اہم رول ادا کر رہا تھا، کی زبانی معلوم ہوا کہ سات ہزار۔۔۔۔(مفسدہ پرداز ) اپنے دل کی پیاس ہمارے خون سے بجھانے کی غرض سے جمع ہیں۔اور وہ ہم پر ٹوٹنے اور ہمارے جسموں کو اپنے تیز اور نوک دار ہتھیاروں سے چھیدنے کے لئے بالکل تیار کھڑے ہیں۔یہ خونچکاں منظر دیکھ کر ہمارے دل پر جو کیفیت گزری وہ الفاظ میں بیان نہیں کی جاسکتی۔۔۔۔میں جس جگہ کھڑا تھا وہ چونکہ عین مورچہ کے منہ پر تھا اس لئے میں نے مناسب سمجھا کہ میں یہاں سے اتر کر دوسری جگہ چلا جاؤں۔اس وقت اتر نایقینا موت کو دعوت دینے کے مترادف تھا۔دل تھام کر میں اتر ہی گیا۔مگر اس خیال سے پھر واپس اپنی جگہ پر آیا کہ اس وقت موت سے اپنی جان بچانا بزدلی ہے۔تھوڑی دیر کے بعد مجھے یاد آیا کہ میں نے ابھی تک ظہر و عصر کی نمازیں نہیں پڑھیں۔چنانچہ لاری کے ترپال پر تیم کر کے میں نے دونوں نماز میں اشاروں سے ادا کیں۔ادھر میں نماز سے فارغ ہوا۔اور اُدھر ایک لرزہ خیز دھماکہ سے ساری فضا گونج اٹھی۔پیچھے جو مڑ کر دیکھا تو ہماری سب سے پچھلی لاری پر ایک دستی بم پھینکا گیا جس سے یہ قیامت خیز دھما کہ ہوا تھا۔اس لاری کے تمام کل پرزے ہوا میں اس طرح اُڑ رہے تھے جس طرح روئی کے گالے، اس میں بیٹھے ہوئے پناہ گزینوں پر جو گزری اس کا اندازہ آپ تصور میں بھی نہیں لا سکتے۔ان میں سے اکثر موت کے آغوش میں ہمیشہ کی نیند سو گئے اور جو باقی بچے تھے وہ بری طرح مجروح ہوئے۔ابھی اس دردناک اور جگر سوز منظر کا زخم مندمل نہ ہونے پایا تھا کہ ان سفاکوں نے مورچے سے پوری فائرنگ کھول دی۔الامان الحفیظ !وہ فائر نگ تھی یا بلائے ناگہانی۔فضا گولیوں کی سنسناہٹ سے گونج اٹھی۔ایسا معلوم ہوتا تھا کہ قریب سے آتش فشاں پہاڑ پھٹ گیا ہے۔گولیاں بارش کی طرح سن سن کرتی ہوئی گزر رہی تھیں۔پناہ گزین بے چارے دانوں کی طرح بھونے جارہے تھے۔معلوم نہیں ہم میں سے کتنے زخمی ہوئے اور کتنے مارے گئے یہ فائرنگ کتنی دیر رہی۔اس کا صحیح اندازہ لگانا ناممکن تھا۔اور سچ پوچھئے اس وقت اندازہ لگانے کی ہوش کس کو تھی۔جب زندہ رہنے کی امیدیں مٹ چکی تھیں تو اندازہ لگا کر کیا کرتے۔یا الہی تیرے محبوب کے غلاموں کے لئے یہی موت مقدر تھی ابھی یہ فقرہ زبان پر ہی تھا کہ میری ٹانگ کو اس زور کا جھٹکا لگا جیسے بجلی کی زبر دست کرنٹ اس میں داخل ہو گئی۔جب ٹانگ پر نظر پڑی تو خون کی موٹی موٹی دھاریں فوارے کی طرح پھوٹ رہی تھیں اور شلوار خون سے لت پت ہو چکی تھی۔تب مجھے یقین ہوا کہ گولی نے اپنا کام کر لیا ہے۔گولی دائیں ران کے اوپر کے حصے میں سے ایک طرف پیوست