تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 151 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 151

تاریخ احمدیت بھارت 135 جلد اول ملٹری کی موجودگی میں۔۔۔۔(مفسدہ پردازوں) نے دن دہاڑے رہزنی شروع کر دی۔اکیلے دو کیلے پر اچانک حملہ کر کے اسباب چھین لیتے۔اور بعض حالتوں میں زخمی کر کے بھاگ جاتے۔البتہ چند افراد اگر اکٹھے مل کر جاتے تو حملہ کرنے کی جرات نہ کرتے۔میں جب بورڈنگ سے قصبہ میں آیا تو میرے ساتھ پانچ سات نوجوان بچے بھی تھے۔اس دن بھی اگر چہ کئی اصحاب پر حملے ہو چکے تھے ،مگر ہم بخیریت پہنچ گئے۔رہزنی کا یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہا جب تک مسلمان ملٹری نہ پہنچ گئی۔اور ہر خطرہ کے مقام پر ہند و فوجی کے ساتھ مسلمان فوجی نہ کھڑا کر دیا گیا۔یہ وہ مختصر حالات ہیں جو میں نے آنکھوں دیکھے بیان کئے ہیں۔اگر کانوں سنے بھی بیان کئے جاتے تو یہ المناک داستان نہایت ہی طویل ہو جاتی۔(34) بہشتی مقبرہ کی حفاظت قادیان پر حملے سے پیشتر جن مقامات مقدسہ کی حفاظت انتہائی ضروری اور اہم تھی ان میں بہشتی مقبرہ سر فہرست تھا۔کیونکہ اس سرزمین میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت خلیفتہ المسیح الاول اور جماعت کی مقدس شخصیات کے مزار ہیں۔اور جماعت احمد یہ اپنے لہو کا آخری قطرہ بہا کر بھی ان کی حفاظت کا عزم کر چکی تھی۔چنانچہ حالات کے مخدوش ہوتے ہی مقامات مقدسہ کی حفاظت پر مامور انتظامیہ نے پچاس افراد پر مشتمل ایک گروپ بہشتی مقبرہ کی حفاظت کے لئے متعین کر دیا تھا۔جس میں زیادہ تر سابق فوجی ( یعنی مستقل خدام) تھے۔اس گروپ میں شامل مکرم عبد الغفور صاحب عبدل تحریر فرماتے ہیں کہ:۔قادیان میں عیسائیوں کے محلہ۔۔۔۔۔۔(دارالصحت) اور منگل کے درمیانی علاقہ میں ہزاروں کی تعداد میں مسلح۔۔۔۔۔(مفسدہ پرداز ) دھرنا مار کر بیٹھے ہوئے تھے۔اور قادیان پر حملہ کرنے کے لئے کسی خاص وقت کا انتظار کر رہے تھے۔محلہ دارالانوار کی طرف سے حملے کا خطرہ تھاوہاں بھی کافی تعداد میں۔۔۔۔۔(مفسدہ پرداز دیکھے گئے تھے۔ان حالات میں ہم کو بہشتی مقبرہ پہنچنے کا حکم ملا اور ہم پچاس کے قریب آدمی جن میں زیادہ تر سابق فوجی تھے، صو بیدار عبدالغفور خان کی سرکردگی میں بہشتی مقبرہ پہنچ گئے جیسے کہ ہم سب کو معلوم ہے کہ بہشتی مقبرہ اور اس کی حفاظت کی اہمیت ہماری جانوں سے بھی زیادہ ہے۔ہم میں سے اکثر آدمی مسلح تھے اور بالخصوص سابق فوجیوں کے پاس تو پکی رائفلیں تھیں۔ہم