تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 150 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 150

جلد اوّل 134 تاریخ احمدیت بھارت عورتیں اور بچے بہت دنوں سے بورڈنگ اور کالج کے وسیع میدانوں میں پڑے تھے جہاں انہوں نے شدید گرمی اور شدید بارشوں کی صعوبتیں جھیلی تھیں اور تھوڑا بہت سامان خاص کر لحاف اور کپڑ وغیرہ جو گھروں سے لائے تھے وہ ضائع ہو گئے تھے۔جب انہیں جبر 14اکتوبر کو پیدل بٹالہ کی طرف دھکیلا اور درندہ صفت۔۔۔۔(مفسدہ پردازوں) کے آگے بے دست و پا کر کے ڈال دیا گیا۔جنہوں نے انتہائی کمینگی کا اظہار کرتے ہوئے بیکسوں کو نہایت بے رحمی سے لوٹا اور قتل کیا تو وہ اپنے برتن اپنی چار پائیاں اپنے ٹرنک اپنے لحاف اور کپڑے جو چیتھڑے ہو چکے تھے اور جو غلاظت سے لتھڑے ہوئے تھے وہیں چھوڑ گئے۔ملٹری نے یہ سب چیزیں ہمارے آدمیوں کو جن میں گریجوایٹ، اعلی تعلیم یافتہ اور اعلیٰ خاندانوں کے افراد بھی شامل تھے برگار میں پکڑ کر اکٹھی کرائیں۔پھر اینٹیں جن کے فرش بنا کر پناہ گزینوں نے بارش کے دن گزارے تھے اور کیچڑ میں لت پت ہونے کی بجائے ان پر بیٹھ کر راتیں کاٹی تھیں ان کو جمع کرانے کے لئے بھی ہم سے بیگار لی گئی۔یہ اینٹیں جو ہزاروں کی تعداد میں زمین میں گڑی ہوئی تھیں ان کو چونکہ خالی ہاتھوں سے ہمیں اکھیڑ نا پڑا۔اس لئے ہمارے ہاتھ اس مشقت سے چھل گئے۔چار چار کوڑی کے۔۔۔(غیر مسلم ) سپاہی ہمیں کام کرتے ہوئے ڈانٹتے ڈپٹتے بھی اور شاباش شاباش بھی کہتے۔مگر ہمیں ان کی کسی حرکت کی کوئی پروانہ تھی۔ہم تو اپنے نظام کے ماتحت چل رہے تھے اور قضاء و قدر کے کرشمے دیکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی کبریائی کے ترانے گا رہے تھے۔ایسی حالت میں ان کی شاباش ان کی ڈانٹ ڈپٹ سے زیادہ ایذارساں محسوس ہوتی تھی۔(17)۔ملٹری کی لوٹ مار پولیس والوں اور فوجیوں کی لوٹ مار کے شرمناک حادثات کی داستانیں تو روزانہ سننے میں آتی تھیں۔لیکن اس بارے میں خود مشاہدہ کرنے کا موقع اس وقت ملا جب میں بورڈنگ سے قصبہ میں آگیا اور دفتر’الفضل کی بالائی منزل میں رہنے لگا۔یہاں سے میں نے دیکھا کہ جب سابقہ ہندوستانی ملٹری کا تبادلہ ہوا۔اور وہ لوگ فوجی ٹرکوں میں بیٹھ کر روانہ ہوئے تو کئی ایک بڑے بڑے ٹرک لبالب مختلف قسم کے اسباب سے بھرے ہوئے تھے اور اس کے اوپر تھوڑے تھوڑے سپاہی بیٹھے تھے۔قادیان سے باہر جانے والوں کو جب ٹرکوں پر چڑھنے کے لئے تھوڑا بہت اسباب لے کر قصبہ سے باہر جانا پڑتا تو۔۔۔(غیر مسلم)