تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 138
جلد اوّل 122 تاریخ احمدیت بھارت پرداز ) گندی گالیاں بکتے ہوئے ان کے پیچھے دوڑے لیکن ریکا یک تھوڑی دور جا کر ٹھٹکے اور پھر سر پر پاؤں رکھ کر پیچھے کو بھاگ آئے۔آگے بڑھنے اور آبادی میں گھنے کی انہوں نے جرات نہ کی۔اس کے متعلق معلوم ہوا کہ ان قاتلوں کا شور وشر سنکر ہمارے چند جاں نثار نو جوان اس مورچہ پر پہنچ چکے تھے جس کے پاس سے وہ۔۔۔۔۔(مفسدہ پرداز) قتل و خونریزی کے ارادہ سے آبادی میں داخل ہو سکتے تھے۔۔۔(مفسدہ پردازوں ) کی نظر جب ان پر پڑی تو آگے بڑھنے کی بجائے پیچھے کو بھا گنا انہوں نے ضروری سمجھا۔احمدی فدائیوں کو یہ سخت ہدایت تھی کہ وہ نہ تو آبادی سے باہر نکل کر۔۔۔۔۔(مفسدہ پردازوں ) پر حملہ کریں اور نہ بھاگتے ہوئے۔۔۔۔۔(مفسدہ پردازوں) کا تعاقب کریں بلکہ اپنے مورچہ میں رہ کر یا پھر محلہ کی گلیوں میں خود حفاظتی کا فرض ادا کریں اور اس خوبی سے ادا کریں کہ جہاں اس کی ادائیگی کی ضرورت پیش آئے وہاں سے کامیابی یا شہادت ہی ان کے قدم ہٹائے۔کسی صورت میں انہیں ہٹنے کا خیال تک نہ آئے۔ہمارے مجاہد نو جوانوں نے بڑی خوشی اور بے حد جوش کے ساتھ یہ عہد کر رکھا تھا اور وہ اسے پورا کرنے کے لئے ہرلمحہ تیار تھے۔ورنہ ان کے لئے حملہ آور دشمن کا اور ایسے کمینہ اور انسانیت کش دشمن کا آبادی سے نکل کر مقابلہ کرنا کوئی مرعوب کن بات نہ تھی جو عورتوں اور بچوں اور بوڑھوں تک کو بے دریغ قتل کر دینا اپنا بڑا کارنامہ سمجھتا تھا۔اور جو پاخانہ بیٹھے ہوئے بیخبر بیمار اور بوڑھے انسانوں کے خون سے ہاتھ رنگنے میں ذرا بھی شرم محسوس نہ کرتا تھا لیکن اپنے نفس پر قابورکھنے، قانون کا زیادہ سے زیادہ احترام کرنے اور مسلمانوں کے خلاف بھری ہوئی ملٹری اور فوج کوظلم وستم میں غیر معمولی اضافہ کرنے کا حتی الامکان کوئی موقع نہ دینے کی خاطر احمدی مجاہدین کی اس ہدایت پر عمل کیا کہ وہ کسی حالت میں بھی بھاگتے ہوئے حملہ آوروں کا آبادی سے باہر جا کر تعاقب نہ کریں۔ورنہ اس ہدایت کی پابندی نہ کرنے والے دشمن کے ہاتھوں اگر کوئی نقصان اٹھا ئیں تو نہ صرف اس کی کوئی قدر نہ کی جائے گی۔بلکہ ایسے لوگوں کو سلسلہ کی طرف سے بھی سزا دی جائے گی۔ی تھی وہ ہدایت اور وہ ارشاد جس نے ہمارے عزیز نو جوانوں کو مقررہ جگہ سے ایک انچ بھی آگے بڑھنے نہ دیا۔ورنہ وہ منظر جو اس وقت پیش نظر تھا کہ۔۔۔۔۔(مفسدہ پردازوں) کا ایک بہت بڑا مجمع گیڑھوں کی طرح حملہ کرنے کے لئے پر تول رہا تھا اور بوڑھے بیکس مسلمان کو محض اس لئے کہ وہ مسلمان تھا اس کا اور کوئی قصور نہ تھا، ابھی ابھی قتل کر چکا تھا۔اور اس کے خون کے قطرے ان۔۔۔۔۔(مفسدہ