تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 137 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 137

تاریخ احمدیت بھارت 121 جلداول موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مکانوں سے حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کا اس لئے شکریہ ادا کر کے واپس جا رہے تھے کہ ایک معزز احمدی افسر نے نہایت نازک وقت میں ان کی حفاظت کی اور ان کو بال بچوں سمیت بخیریت محفوظ مقام پر پہنچادیا۔3-2 را کتوبر کی درمیانی رات بڑی کثرت سے گولیاں چلتی رہیں۔برین گئیں تڑ تڑ کرتی رہیں۔بموں کے چلنے کی آواز میں بھی آتی رہیں۔مصیبت زدہ لوگوں کی چیخ و پکار بھی سنائی دیتی رہی۔اور ساری رات یہ سلسلہ جاری رہا۔جب دن چڑھا تو میں نے مکان کی چھت پر سے دیکھا کہ ارد گرد کے دیہات سے۔۔۔۔(مفسدہ پرداز ) بڑی کثرت کے ساتھ آرہے ہیں اور محلہ دار الرحمت کے قریب کھیتوں میں اور ایک مندر میں جمع ہورہے ہیں۔جوں جوں دن چڑھتا گیا ان کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا حتی کہ سینکڑوں سے گزر کر ان کی تعداد ہزاروں تک پہنچ گئی۔کچھ لوگ قادیان کے ہندوؤں اور سکھوں کے محلوں سے نکل کر بھی ان میں شامل ہوتے نظر آئے اور بعض دیہاتی گھوڑے، خچریں اور گدھے وغیرہ قادیان کی پرانی آبادی سے ہانک کر اپنے گاؤں کی طرف لے جاتے دیکھے گئے۔۔۔۔۔(مفسدہ پردازوں) کے اس اجتماع کے آگے جولمحہ بہ لمحہ بڑھ رہا تھا۔۔۔پولیس کے سوار اور پیدل سپاہی بھی موجود تھے جو ادھر اُدھر نقل و حرکت کرتے دکھائی دیتے تھے اور معلوم ایسا ہوتا تھا کہ وہ ڈاکو اور لٹیرے۔۔۔۔(مفسدہ پردازوں) کولوٹ مار اور قتل و غارت سے روکنے اور منتشر کرنے کی بجائے خاص ہدایات دے رہے اور احمد یہ آبادی پر حملہ کے لئے تیار کر رہے ہیں۔لٹیرے پولیس کے پاس سے گزرتے اور تھوڑی دیر ٹھہر کر آگے بڑھ جاتے۔عین اس وقت جب پولیس کی موجودگی میں بے بس و بے کس مسلمانوں پر ستم ڈھانے کے لئے یہ تیاریاں کی جارہی تھیں۔کئی ہزار۔۔۔۔(مفسدہ پرداز ) تلوار میں چمکا چھکا کر خوف و ہراس پیدا کرنے کی کوشش کر رہے تھے اور کمریں کس کر تیار بر تیار کھڑے تھے۔میں نے دیکھا کہ عین اس جگہ سے جہاں پولیس کے سپاہی کھڑے تھے کچھ۔۔۔۔(مفسدہ پرداز ) تلواریں سونت کر نکلے اور محلہ کی طرف بڑھنے لگے اور جب انہوں نے دیکھا کہ سامنے ایک بوڑھا آدمی پاخانے بیٹھا ہوا ہے تو للکارتے ہوئے اس پر پل پڑے اور وہیں اسے قتل کر دیا۔اس کے بعد وہ دو تین اور آدمیوں کی طرف بڑھے کہ وہ بھی پاخانہ کرنے بیٹھے تھے مگر انہوں نے حملہ آوروں کو ذرا دور سے دیکھ لیا اور بھاگ کر آبادی میں آگئے۔۔۔۔۔(مفسدہ