تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 136
جلد اوّل 120 تاریخ احمدیت بھارت سنبھلنے بھی نہ پائے تھے کہ کسی قدر سردی اور بہت زیادہ بھوک سے نڈھال گھٹ کر رہ گئے اور پھر معاً بعد ہتھیار بند پولیس کی معیت میں مسلح۔۔۔۔(مفسدہ پردازوں) کی ٹولیاں محلہ دارالرحمت کے جنوب سے محلہ میں داخل ہونا شروع ہو گئیں۔اور تمام مال مویشی جن میں اُونٹ بیل بھینسیں بھینسے گا ہمیں گھوڑیاں خچریں گدھے اور بھیڑ بکریاں شامل تھیں کیلوں سے کھول کر ہانکنے لگے۔اور تمام محلہ میں سے نہ صرف تباہ حال پناہ گزینوں کے بلکہ بعض مقامی اصحاب کے مویشی بھی ہزاروں کی تعداد میں اکٹھے کر کے محلہ کے شمال کی طرف نکل گئے۔مویشیوں میں زیادہ تر اعلیٰ نسل اور بھاری قیمت کے بیل تھے جن کے ذریعہ پناہ گزین گڑوں میں اپنا بچا کھچا اسباب لاد کر لائے تھے اور اس امید میں پڑے تھے کہ پیدل قافلہ روانہ ہوگا تو وہ گڑوں میں سامان لے جاسکیں گے لیکن پولیس نے نہایت شقاوت قلبی سے تمام مویشی چھین کر ان کو بے دست و پا بنادیا۔اور جب ان لوگوں نے دیکھا کہ اب نہ صرف گڈوں کالے جانا ان کے لئے ممکن نہیں بلکہ گڑے بھی لٹیرے۔۔۔۔(مفسدہ پرداز) پولیس کی مدد سے چھین لیں گے تو انہوں نے گڑے جو کئی سوکی تعداد میں تھے توڑ پھوڑ کر جلانے شروع کر دیئے اور دوسرے تیسرے دن جب۔۔۔۔(مفسدہ پرداز ) گڑوں کی تلاش میں آنکلے تو اپنا سا منہ لے کر رہ گئے۔(6)-3 اکتوبر کا المناک دن ان حالات میں آخر وہ دن آگیا جب ملٹری پولیس اور۔۔۔۔(مفسدہ پردازوں) نے مل کر قادیان میں قیامت برپا کر دی۔اور ان لوگوں کو اپنے انتہائی ظلم وستم کا نشانہ بنایا جو نہ صرف حکومت کے قوانین کی پوری پوری پابندی کرنے اور سچی وفاداری کا ثبوت دینے کا اعلان کر چکے تھے۔بلکہ دوسروں کو بھی اس کی تلقین کر رہے تھے اور جن کے ہاتھوں پاکستان کے کسی حصہ میں نہ صرف کسی سکھ یا ہند و کو جانی و مالی کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں پہنچا۔بلکہ کثیر التعداد سکھوں کی جان و مال اور عزت و آبرو احمدیوں نے بچائی۔انہی ایام میں جبکہ۔۔۔۔(مفسدہ پردازوں) نے قادیان کو نہایت بے دردی اور بے رحمی سے اپنی طرف سے اُجاڑ دیا اور نہایت شرمناک مظالم احمدیوں پر کئے۔میں نے دیکھا کہ ایک نہایت معز ز عمر رسیدہ سکھ جن کی شکل و شباہت سے شرافت اور عالی نبی ظاہر تھی معہ چند اور ساتھیوں کے خاندان حضرت مسیح