تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 135
تاریخ احمدیت بھارت 119 جلد اوّل قافلے ٹرکوں پر مسلمان ملٹری کی حفاظت میں جانے لگے تو لٹیرے اس تاک میں رہتے کہ سوار ہوتے وقت جو ہجوم ہوتا ہے اسے خوفزدہ کریں تا کہ وہ اپنا تھوڑا بہت اسباب بھی چھوڑ کر بھاگ جانے پر مجبور ہوجائے۔اس کے لئے پولیس اور ملٹری کی موجودگی میں قتل تک نوبت پہنچا دی مگر کسی نے ان کو نہ روکا۔البتہ ملٹری اور پولیس نے گولیاں چلا کر مظلومین پر اپنی موجودگی اور شدید سے شدید اقدام کے لئے تیاری ظاہر کر دی اور بندوق کی زبان سے اعلان کر دیا کہ بے حس و حرکت قاتلوں اور لٹیروں کے آگے پڑے رہو۔ایک دن عصر کے قریب آریہ سکول کے قریب مسلمانوں کی چھوٹی سی آبادی میں رونے دھونے اور چیخ و پکار کا شور بلند ہوا۔میں نے مکان کی چھت سے دیکھا تو کچھ لوگ ادھر دوڑے جاتے نظر آئے۔پھر پولیس پہنچی۔فائروں کی آوازیں آنے لگیں۔آخر نتیجہ ی معلوم ہوا کہ چند۔۔۔۔مفسدہ پرداز ) آبادی میں گھس کر دو مسلمانوں کو قتل کر گئے ہیں اور پولیس نے یہ کہہ کر مسلمانوں کو گھروں سے نکل جانے پر مجبور کر دیا کہ وہ کچھ نہیں کر سکتی۔اگر جان بچانی ہے تو گھروں سے نکل جاؤ۔چنانچہ لوگ نہایت ابتر حالت میں آنے شروع ہو گئے۔اس طرح جب وہ ساری آبادی خالی کرالی گئی تو قریب کے دیہات کے۔۔۔۔(مفسدہ پردازوں) نے لوٹنا شروع کر دیا جو پراباندھے وہاں کھڑے تھے۔اور صبح تک سب کچھ لے جانے کے بعد مکانوں کی چھتیں اُکھیڑ کر لے جانے لگے۔یہ سب کچھ وہ کھلم کھلا کرتے نظر آرہے تھے۔مگر ملٹری اور پولیس نے جس کے لئے مسلمان مظلومین کی آہ تک نا قابل برداشت تھی ظالم۔۔۔۔(مفسدہ پردازوں ) کی ان حرکات کو توجہ کے قابل ہی نہ سمجھا اور کسی نے ان کو روکنے کی تکلیف گوارہ نہ کی۔راتوں کو کرفیو کے باوجود جو حملے پناہ گزینوں پر کئے جاتے اور جن میں جان و مال کے علاوہ خواتین کی عصمت کو بھی لوٹا جاتا اور جن کے دوران پولیس اور ملٹری حملہ آوروں کی پشت پر نہیں بلکہ ان کے پہلو بہ پہلو ہوتی۔ان کا کسی قدر ذکر کر فیو کے عنوان کے نیچے کیا جا چکا ہے۔غرض یہ حملے روز بروز زیادہ شدید اور کثیر ہوتے گئے حتی کہ انتہاء کو جا پہنچے۔(29) (5)۔تباہ حال مسلمانوں کے مویشی لوٹ لئے دو دن اور تین رات کی مسلسل بارش کے بعد جب مطلع صاف ہوا تو سورج نکلنے کے تھوڑی دیر بعد ہی کر فیولگا دیا گیا۔اس پر وہ لوگ جو مکانوں میں یا کھلے میدان کے کیچڑ اور پانی میں پڑے تھے ابھی