تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 134
جلد اوّل 118 تاریخ احمدیت بھارت کی تواضع مکوں طمانچوں اور بندوق کے بٹ سے کی گئی۔چونکہ پناہ گزین کثیر تعداد میں ایک لمبے عرصہ سے قادیان میں پڑے تھے اور باوجود انتہائی جدو جہد اور پناہ گزینوں کی اتنی بڑی تعداد کے حکام نے قادیان میں کیمپ بنانا منظور نہ کیا تھا۔اس لئے ان لوگوں کی خوراک کا بہت بڑا بوجھ قادیان کے رہنے والوں پر پڑا ہوا تھا اور وہ اپنی خریدی ہوئی گندم انہیں کھلا رہے تھے کیونکہ ان لوگوں کو ملٹری اور پولیس نے نہایت بے سروسامانی کی حالت میں گھروں سے نکال کر بلکہ راستہ میں لوٹ مار کا شکار بنا کر قادیان پہنچایا تھا۔مگر پولیس نے ہر ممکن کوشش کی کہ ان کو بھوکا مارے تا کہ وہ یا تو یہیں ختم ہو جائیں یا مجبور ہو کر کسی طرف اٹھ بھا گئیں تو وہاں ان کا خاتمہ ہو جائے۔(4)۔قاتلانہ حملے قادیان کے شمال مغرب کی طرف مسلمانوں کے جو دیہات تھے وہاں کے مظلوم زیادہ تر محلہ دار الرحمت میں آئے تھے۔ان میں سے جن کو۔۔۔۔(مفسدہ پرداز ) راستہ میں قتل کرتے اور ان میں سے جو لاشیں کسی نہ کسی طرح لائی جاسکتیں وہ ہمارے محلہ میں آتیں اور قریب کے قبرستان میں دفن کرنے کا انتظام کیا جاتا۔ایک دن اتفاقا میں نے ایسی تین لاشیں دیکھیں اور ایک اور دن جبکہ پناہ گزینوں کا قافلہ ریلوے لائن کے قریب ٹرکوں پر سوار ہونے کے لئے بہت بڑی تعداد میں کھڑا تھا پولیس اور ملٹری اپنی پوری شان و شوکت کے ساتھ عورتوں اور بچوں کو ادھر سے اُدھر اور اُدھر سے ادھر دھکیل رہی تھی۔مردوں پر لاٹھیاں برسارہی تھی۔قریب ہی ایک پناہ گزین کو۔۔۔۔( مفسدہ پردازوں ) نے کر پانوں سے دم زدن میں قتل کر دیا اور اس کے بعد تھوڑی دور جا کر کھڑے ہو گئے۔مقتول کے وارث آہ وفغاں کرتے ہوئے لاش کے پاس پہنچے اور روتے دھوتے لاش کو چار پائی پر ڈال کر تمام مجمع میں سے گزرے مگر پولیس اور ملٹری ٹس سے مس نہ ہوئی۔البتہ کچھ دیر بعد اتنا اس نے ضرور کیا کہ ہوا میں بندوقیں چلانی شروع کر دیں۔پھر ایک احمدی کے مکان میں گھس کر چھت پر جا چڑھی اور ہوا میں کارتوس ضائع کرنے لگی۔دراصل جب کوئی قافلہ روانہ ہونے والا ہوتا تو ارد گرد کے دیہات کے۔۔۔۔(مفسدہ پرداز ) بہت بڑی تعداد میں مسلح ہو کر ادھر ادھر منڈلا نا شروع کر دیتے تاکہ لوٹ مار کے لئے کوئی موقع تلاش کریں لیکن جب