تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 132 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 132

جلد اوّل 116 تاریخ احمدیت بھارت گے اور وہ نہ پائے رفتن نہ جائے ماندن کی حالت میں مبتلا نظر آرہا تھا۔ان حالات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔قادیان میں قیام امن کے ذمہ داروں اور قانون کے محافظوں نے مصیبت زدہ ستم رسیدہ اور بے دست و پا مسلمانوں کو کن جکڑ بندیوں میں کس رکھا تھا اور ان کے مقابلہ میں ظالموں لٹیروں ، ڈاکوؤں، قاتلوں، قانون شکنوں کو کس طرح ظلم پر ظلم کرنے کے لئے آزادی دے رکھی تھی اور پھر کس دیدہ دلیری سے ان کی مدد کی جاتی اور انہیں آسانیاں اور سہولتیں بہم پہنچائی جاتی میں۔(28) (2) بجلی بند قادیان میں ایک طرف تو کر فیو لگا کر احمدیوں کو مجبور کر دیا گیا کہ 6 بجے شام سے پانچ ساڑھے پانچ بجے صبح تک گھروں میں بندر ہیں اور ہزار ہا پناہ گزین مرد عورتیں اور بچے جو قادیان کے گلی کوچوں اور اردگرد کے کھیتوں میں دور دور تک پڑے تھے اپنی اپنی جگہ پر دبک جائیں اور دوسری طرف بجلی بند کر کے تمام آبادی کو تاریکی اور ظلمت میں گم کر دینے کی ظالمانہ کوشش کی گئی۔علاوہ ازیں قریباً دولاکھ کی مظلوم اور ستم رسیدہ آبادی کو بھوکوں مارنے کے لئے آٹا پینے والی مشینوں کو جو بجلی سے چلتی تھیں آٹا پینے کے نا قابل بنا دیا اور آخر کار بجلی اس وقت تک جاری نہ ہوئی جب تک کثیر التعداد مسلح۔۔۔۔(مفسدہ پرداز ) لٹیروں کے ساتھ مل کر ملٹری اور پولیس نے قادیان میں بسنے والے لوگوں کو نہایت ہی بے سروسامانی کی حالت میں انتہائی جبر وتشد د کر کے گھروں سے نہ نکال دیا۔جس دن یہ ظالمانہ اقدام کیا گیا اور جب کئی میلوں میں پھیلی ہوئی قادیان کی آبادی کو سمیٹ کر اندرون اور بیرون شہر کے دو نہایت ہی محدود حلقوں میں ٹھونس دیا گیا اور مکانات خالی کرا لئے گئے تو اسی دن شام کے قریب بجلی بھی جاری کر دی گئی تاکہ رات کی تاریکی۔۔۔۔( مفسدہ پرداز ) لٹیروں کی راہ میں حائل نہ ہو اور وہ اطمینان کے ساتھ ایک ایک چیز پسند کر کے اور قیمتی اشیاء چھانٹ چھانٹ کر لے جاسکیں۔چنانچہ صبح تک محلہ دار الرحمت کا کوئی مکان ایسا نہ رہا جو مکمل طور پر لوٹ نہ لیا گیا۔دوسرے محلوں اور پرانی آبادی کے بعض مکانات بچ گئے لیکن ایسے تمام مکانات پر جن کے مالک مکان خالی کر دینے پر مجبور کر دیئے گئے تھے ملٹری اور پولیس نے قبضہ کر لیا اور