تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 130 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 130

جلد اوّل 114 تاریخ احمدیت بھارت ساتھ 3 اکتوبرکو حملہ کیا اور میں اپنے مکان کی چھت پر کھڑے ہو کر کسی قدر ان کی نقل و حرکت دیکھ سکا۔اس لئے مناسب معلوم ہوا کہ میں چشم دید واقعات اور دوسرے حالات جو براہ راست شنید سے تعلق رکھتے ہیں اور جن کی صداقت میں شک وشبہ کی کوئی گنجائش نہیں، احباب کے سامنے پیش کروں۔(1) - بلا وجہ کرفیو قادیان میں تشدد تو اسی دن سے شروع کر دیا گیا تھا جس دن کہ مسلمان ملٹری کو واپس بلا لیا گیا تھا۔گواردگرد کے مسلمانوں کے دیہات اس سے پہلے ہی۔۔۔۔(مفسدہ پردازوں ) کے ظلم وستم کا نشانہ بن کر اور اپنا سب کچھ لٹا کر ہزاروں کی تعداد میں روزانہ قادیان آنے لگ گئے تھے۔لیکن 21 ستمبر کو جب قادیان میں بلا وجہ کر فیو لگا دیا گیا۔بلا وجہ اس لئے کہ فرقہ وارانہ فساد تو رہا ایک طرف کوئی معمولی لڑائی جھگڑے کا واقعہ بھی تو رونما نہ ہوا تھا اور نہ اس بات کا امکان تھا۔کیونکہ جماعت احمدیہ کو نہ صرف پر امن رہنے اور قانون کی پوری پوری پابندی کرنے کے متعلق حضرت امام جماعت احمد یہ ایدہ اللہ تعالیٰ احکام جاری کر چکے تھے جن کی تعمیل ہر احمدی اپنے لئے باعث سعادت یقین کرتا تھا۔خواہ اس کے لئے اپنی جان اور مال ہی کیوں نہ قربان کرد دینا پڑتا۔بلکہ یہ بھی ارشاد فرما چکے تھے کہ ان مصیبت اور افراتفری کے ایام میں ہر اس شخص کو امداد دو جو تمہاری امداد کا محتاج ہو۔خواہ وہ کسی مذہب کا ہو۔اور ہر وہ امداد و جوتم دے سکتے ہو۔اس ارشاد کی تعمیل بھی ہر احمدی کے فرائض میں داخل تھی۔ان حالات میں یہ کس طرح ممکن تھا کہ قادیان میں کوئی احمدی کسی قانون کی خواہ وہ ہنگامی ہوتا یا مستقل ، خلاف ورزی کرتا۔اور کسی لڑائی جھگڑے کی خواہ وہ کیسا ہی مجبور کن ہوتا ، طرح ڈالتا۔ہاں اپنی عزت و آبرو اور جان و مال کی حفاظت کرتے ہوئے قانون شکن حملہ آوروں کا مقابلہ احمدی اپنا حق سمجھتے تھے، ایسا حق جو ہر مہذب گورنمنٹ نے اپنی رعایا کو دے رکھا ہے اور جس کا انکار کوئی حکومت کھلم کھلا کر کے دنیا میں منہ دکھانے کے قابل نہیں رہ سکتی۔قادیان میں مقیم پولیس نے اسی حق سے احمدیوں کو محروم کرنے اور قانون شکن۔۔۔۔(مفسدہ پرداز ) غنڈوں کو خلاف امن و قانون کھلا چھوڑ دینے کے لئے 21 ستمبر سے کرفیو لگا دیا۔اور اس طرح مسلمانوں کو مغرب ،عشاء اور صبح کی نمازیں مسجدوں میں ادا کرنے سے روک دیا۔پھر گھنٹی اتنی تھوڑی دیر اور اتنی ہلکی بجائی جاتی کہ عام طور پر کرفیو کے شروع اور ختم