تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 105
تاریخ احمدیت بھارت دوسرا مکتوب 99 89 وو بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ سید نا حضرت امیر المؤمنین اید کم اللہ تعالیٰ السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ امید ہے حضور کی طبیعت اچھی ہوگی۔آج کا دن کچھ ہنگامی رنگ میں گزرا۔صبح چھ بجے ہی پولیس اور ملٹری احمد یہ چوک میں پہنچ گئی اور بڑے گیٹ کھلوانے کے لئے آواز دی۔اور جب اس میں کچھ دیر ہوئی تو ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب کے مکان کی ساتھ والی دکانوں کی چھتوں پر سے کود کر احمد یہ چوک میں پہنچ گئے اور ہمارے مکانات کا چاروں طرف سے محاصرہ کر لیا۔اور اس کے ساتھ ہی تحریک جدید کے دفاتر اور سید ناصر شاہ صاحب کے مکان کا بھی اور چاروں طرف نظر رکھنے ( والی ) فوج کی ایک مسلح پارٹی مینار پر چڑھ گئی۔تھوڑی دیر میں ہی سید ناصر شاہ صاحب کے مکان اور سیدہ ام طاہر احمد مرحومہ کے مکان میں ملٹری اور پولیس گھس گئی اور چابیاں منگوا کر تلاشی شروع کر دی اور اس کے بعد تھوڑی دیر میں ام طاہر مرحومہ کے اوپر والے صحن اور خلیل والے مکان اور لجنہ کے دفاتر میں بھی پولیس اور ملٹری پہنچ گئی اور پھر میرے مکان سے ہوتے ہوئے عزیز حمید احمد کے چوبارے میں جا پہنچی اور نگرانی کے لئے میرے مکان کے صحن میں ایک فوجی متعین کر دیا گیا۔اور اس کے ساتھ ہی پرائیویٹ سیکرٹری کی طرف سے پولیس اور ملٹری نے داخل ہو کر مطالبہ کیا کہ حضور کا اوپر والا دفتر کھلوایا جائے کہ اس کی بھی تلاشی لی جائے گی۔چنانچہ عزیز منور احمد کو بھیج کر دفتر کھلوادیا گیا۔اور مرزا عبد الحق صاحب اور عزیزم منور احمد کی موجودگی میں حضور کے تینوں کمروں کی تلاشی ہوئی مگرکوئی چیز قابل اعتراض برآمد نہیں ہوئی۔ام طاہر مرحومہ کے مکان میں سے حضور کی بندوق تلاش کرنے والوں نے طاہر (خلیفہ اسیح الرابع۔ناقل ) کے پاس سے اپنے قبضہ میں کر لی اور لائیسنس کا مطالبہ کیا اور چونکہ اس وقت تک لائیسنس نہیں ملا تھا ( جو تھوڑی دیر بعد عزیز داؤد نے لاہور سے پہنچایا) اس لئے بندوق اپنے ساتھ رکھ لی اور کہا کہ لائیسنس دیکھنے کے بعد فیصلہ کریں گے۔اسی طرح عزیز حمید احمد کے چوبارے میں سے میاں محمد احمد کی 22 / بور بندوق تلاشی والوں نے اپنے قبضہ میں کر لی اور باوجود اس کے کہ لائیسنس موجود تھا، یہ جواب دیا کہ کپتان صاحب لائیسنس دیکھ کر فیصلہ کریں گے۔عزیز حمید احمد کے جلد اول