تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 104 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 104

جلد اوّل 88 تاریخ احمدیت بھارت لاہور پہنچ جانے کی اطلاع مل گئی تھی۔جس سے بھاری فکر دور ہوا۔آج وقیع الزمان صاحب کے ذریعہ زبانی پیغام بھی ملا۔آج قادیان کے ماحول میں پھر۔۔۔۔مفسدہ پردازوں) کی نقل و حرکت زیادہ رہی۔کیونکہ ایک تو راستے خشک ہیں اور دوسرے مسلمان ملٹری واپس جارہی ہے۔۔۔۔۔۔آج دو احمدی جو سیکھواں سے قادیان آرہے تھے تلے اور سکھواں کے درمیان۔۔۔۔(مفسدہ پردازوں) کے ہاتھ سے مارے گئے اور سٹھیالی پر بھی حملے کا آغاز ہے۔کڑی متصل کا ہنو ان کو سخت خطرہ لاحق تھا۔ملٹری نے ہمت کر کے پناہ گزینوں کو گورداسپور پہنچا دیا۔بھا مڑی میں کافی وسیع۔۔۔۔( آگ۔ناقل ) مینار سے دیکھی گئی۔عالمے کا گاؤں جلا دیا گیا اور لوگ اُٹھ کر پھیر پیچی میں گئے مگر ملٹری کی واپسی کی وجہ ( سے ) وہاں بھی بہت ہراساں ہیں۔آج کپٹن رائے ( مسلمان ملٹری کے انچارج۔ناقل ) بٹالے گیا ہوا ہے اور ابھی تک ملٹری عملاً واپس نہیں ہوئی کیونکہ اس سے چارج لینے والی ملٹری ابھی تک نہیں پہنچی۔شاہ صاحب (حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب۔ناقل ) واپس قادیان آگئے ہیں انہیں صبح گورداسپور مرزا صاحب (1) کو لانے اور ضلع کے حکام سے ملاپ ( ملاقات ) کرنے کے لئے بھیجا جائے گا۔حضور کا خط حضور کے تشریف لے جانے کے تین گھنٹے بعد شمس صاحب اور مولوی ابو العطاء صاحب کو پڑھا دیا گیا تھا اور شام کو جملہ صدر صاحبان کو پڑھا دیا گیا۔اور آج دوپہر کو مساجد میں سنا دیا گیا۔اثر بہت اچھا ہے اور اس کی وجہ سے کوئی گھبراہٹ نہیں۔مگر تعجب کر رہے ہیں کہ کس طرح علم ہونے کے بغیر حضور تشریف لے گئے۔باقی سب خیریت ہے اور ہم سب دعا کے طالب ہیں۔فقط والسلام ( دستخط) خاکسار مرزا بشیر احمد (2) 2/09/1947 نوٹ : حضرت مصلح موعود کے جس خط کا ذکر مندرجہ بالاستور میں کیا گیا ہے وہ پیغام کی صورت میں پہلے آچکا ہے۔