تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 103
تاریخ احمدیت بھارت 87 باب چهارم حضرت مصلح موعودؓ کی ہجرت کے بعد کے اہم واقعات سیدنا جلد اول سید نا حضرت لمصلح الموعود کی ہجرت کے بعد قادیان دارالامان میں امارت کی تمام تر ذمہ داری حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے کے کندھوں پر تھی اور آپ نے اس ذمہ داری کو اس قدر خوش اسلوبی سے نبھایا کہ تاریخ ہمیشہ اسے یادر کھے گی۔ย حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے حضرت مصلح موعود کی ہجرت ( 31 اگست 1947ء ) سے لیکر 16 نومبر 1947 ء تک (یعنی قادیان سے آنے والے آخری کنوائے تک) کے حالات وواقعات کا ایک جامع نقشہ روز نامچہ کی صورت میں کھینچا ہے۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کے دوا ہم مکتوب اس سے پہلے کہ اس روز نامچہ کو درج کیا جائے خاکسار حضرت صاحبزادہ صاحب کے دو اہم مکتوب جو حضرت مصلح موعودؓ کے نام ہیں یہاں درج کئے جاتے ہیں۔ہر دو مکتوب اس زمانہ کے ہیں جب کہ آپ حضرت مصلح موعودؓ کے حکم سے قادیان میں امیر مقامی کے فرائض بجالا رہے تھے۔ان میں سے ย ایک مکتوب آپ کے دور امارت کا پہلا یادگار خط ہے اور دوسرا آخری خط جس کے بعد آپ بھی حضور کے حکم سے پاکستان ہجرت کر گئے۔پہلا مکتوب قادیان دارالامان بسم اللہ الرحمن الرحیم سیدنا ! السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ۔کل ساڑھے چھ بجے کے قریب حضور کی خیریت سے