تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 97
تاریخ احمدیت بھارت 81 جلد اوّل محمد صاحب آف کلکتہ کی فیملیوں کو بھی بھجوانے کا انتظام کیا جائے۔اسی طرح شیخ محمد صدیق صاحب کلکتہ کی فیملی کو یعنی جب کنوائے آئے یا کسی ٹرک میں جگہ خالی ہو۔دیہاتی مبلغین یا زیر تعلیم دیہاتی مبلغین ، دعوۃ و التبلیغ کے مبلغین ، انجمن کے محصلوں میں سے جن کو عملہ حفاظت آسانی سے فارغ کر سکے ان کو بھی بھجوایا جائے تا یہاں کام شروع کیا جاسکے۔کیانی صاحب لیگل ریمبر نس کے چپڑاسی کی فیملی فیروز دین پٹواری کے ہاں رہتی ہے اس کو بھی بھیجوانے کا انتظام کریں اگر وہ ابھی تک آنہیں چکی۔کلیدی کاموں پر جولوگ مامور ہیں جن کا ابتداء نام لے کر ذکر کیا گیا ہے۔باقیوں کے متعلق حضور نے فرمایا ہے کہ صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کے مشورہ سے ان کارکنوں کو بھجوایا جائے جن کی ضرورت نہ ہوتا سلسلہ کے کاموں کا تسلسل جاری رہے۔لیکن بہر حال آپ کی ضروریات قادیان مقدم ہیں۔پس ان کوملحوظ رکھیں۔عبد الباری نائب ناظر بیت المال قادیان میں حراست میں لے لئے گئے ہیں۔ان کو ضمانت پر چھڑانے کی کوشش کی جائے۔ان کے پاس لاہور کے حسابات کی رسیدات پیشگی رقوم کا حساب ہے۔اگر ممکن ہو سکے حاصل کر کے فوراً بھجوانے کا انتظام فرما دیں۔دس بارہ ہزار روپیہ کا ان کے پاس حساب اور رسیدات ہیں۔اس ضمن میں پوری کوشش وسعی ہونی چاہئیے۔ممنون ہوں گا۔خاکسار محمد عبداللہ خاں مکرر آنکہ سائیکلو سٹائل پریس قادیان میں تین ہیں۔ایک ریسرچ میں ، دوسرا تحریک جدید میں، تیسرا محکمہ دعوۃ التبلیغ کے صیغہ اطلاعات میں ہے۔ان تینوں کو جلدی بھجوانے کا انتظام کریں۔کم از کم ایک تو فوری طور پر آجانا چاہیئے۔یہاں ان کی اشد ضرورت ہے۔حضور نے کسی کنوائے یا پرائیویٹ کنوائے کے آنے ( پر۔ناقل ) حضرت پیر منظور محمد صاحب کو بھیجوانے کا ارشاد بھی فرمایا۔اسکو بھی ملحوظ رکھا جائے۔ان کو خاص نگرانی میں آرام سے بھجوایا جائے۔ضرورت ہو تو کوئی شخص راستہ میں افیون کا ٹیکا دیتا لائے تا تکلیف نہ ہو۔ان سے کہہ دیا جائے اس وقت جانوں کا لیجانا اسباب سے مقدم ہے۔ہاں بار بار لکھا جا چکا ہے کہ الفضل، الحکم، بدر، ریویو، پیغام صلح کا ایک ایک مکمل سیٹ شروع سے آخر تک کا فوراً بھجوایا جائے۔تا سلسلہ کی تاریخ غائب نہ ہو جائے مگر اب تک توجہ نہیں ہوئی۔انور صاحب خود یہ کام کریں۔“ (24)