تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 96 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 96

جلد اول 80 تاریخ احمدیت بھارت کارکن مع ریکارڈ لاہور بھجوائے گئے مگر حقیقی معنوں میں عملہ دفاتر اور ریکارڈ منگوانے کا آغاز 24 ستمبر 1947 ء کو ہوا اور دو مراحل میں یہ کام انجام دیا گیا۔پہلا مرحلہ المصل حضرت سید نام مصلح الموعود کی خاص ہدایت پر حضرت نواب محمد عبد اللہ خان صاحب نے سیدناا صاحبزادہ مرزا عزیز احمد صاحب امیر مقامی قادیان کے نام حسب ذیل مراسلہ بھیجا۔" بِسمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم جو دھامل بلڈنگ 24 ستمبر 1947ء مکرمی مرزا صاحب سلمکم اللہ تعالیٰ السلام علیکم حضور نے ارشاد فرمایا ہے کہ سید محمدحسین شاہ ناظم جائیداد، بہاءالحق صاحب ناظم تجارت ،مولوی عبد المغنی خاں صاحب اور ایک ایک کلرک ریکارڈ سمیت، برکت علی صاحب فنانشل سیکرٹری تحریک جدید مع حساب امانت و وعدہ جات وغیرہ، شیخ نور الحق صاحب جو سندھ کی زمینوں میں کام کرتے ہیں اور پرائیویٹ سیکرٹری کے دفتر کے اوپر کے کمرہ میں بیٹھتے ہیں، ان سب ( کو۔ناقل ) تاکید کی جائے کہ اپنا اپنا مکمل ریکارڈ یا بحالت مجبوری ضروری ریکارڈ لیکر آئیں۔شیخ نور الحق صاحب اور شاہ صاحب خرید کردہ زمینوں کے قبالے بھی لائیں۔اگر سر کاری کنوائے کا انتظام نہ ہو تو ان کو پرائیویٹ کنوائے میں ہی بھجوانے کا انتظام کریں۔مگر یہ دیکھ لیں کہ ساتھ حفاظت کے لئے اسکورٹ کافی ہے کہ نہیں۔دفتر پرائیویٹ سکرٹری کے آدمی رفیق احمد صاحب کو بھجوا دیا جائے وہ پہرہ یا حفاظت کے قابل نہیں۔ان کے ساتھ ایک اور تجربہ کار کارکن منشی فتح الدین صاحب یا اور کوئی جس کو حفاظت والے بخوشی فارغ کر سکیں۔عطاء الرحمن صاحب پر وفیسر فزکس تعلیم الاسلام کالج کو کہا جائے کہ جس قدر سامان کالج کالا یا جا سکتا ہے لے کر لاہور پہنچیں۔زیادہ اہم اور ضروری سامان کو مقدم کیا جائے جس کا دوسری جگہ ملنا مشکل ہوگا۔اور حضور نے فرمایا ہے کہ فیملی شیخ محمد حسین صاحب آف کلکتہ والد حافظ بشیر احمد صاحب اور شیخ دوست