تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 95
تاریخ احمدیت بھارت 79 جلد اول نیچے کرو ، سامنے۔۔۔۔(مفسدہ پرداز ) بندوقیں لے کر مورچے بنائے بیٹھے ہیں۔قریب ہے کہ قافلہ پر حملہ کردیں۔ایک آفت سے تو مر مر کے ہوا تھا جینا پڑ گئی اور یہ کیسی میرے اللہ نئی ! بیں جب پل سے پار ہوئیں تو قافلہ کے انچارج حوالدار نے حکم دیا کہ بسیں اسی جگہ ٹھہر جائیں۔اس نے اتر کر اپنی برین گن سیٹ کی۔اسی طرح اس کے ایک ماتحت نے بھی۔۔۔۔۔(مفسدہ پردازوں) نے جو کھیتوں کی منڈیروں کی اوٹ میں بیٹھے ہوئے تھے اور ایک قسم کے مورچہ بنائے ہوئے تھے گولیاں چلانی شروع کر دیں۔مگر خدا تعالیٰ نے بچالیا۔قافلہ کے کسی فرد پر نہ گی۔اور حوالدار اور اس کے ساتھی نے فائر کرنے شروع کئے۔کہا جاتا تھا کہ تمیں بنتیں۔۔۔۔(مفسدہ پرداز ) مارے گئے اور باقی بھاگ گئے۔واللہ اعلم۔غرض قافلہ وہاں سے روانہ ہوا۔اور کچھ دور ہی گیا تھا کہ سامنے سے۔۔(غیر مسلم) کے فوج کے افسر ایک جیپ میں آرہے تھے۔ہمیں خیال آیا کہ جب وہ۔۔۔۔(مفسدہ پردازوں) کی تھے۔لاشیں دیکھیں گے تو ہمارے قافلہ کا تعاقب کر کے ہمیں روک لیں گے۔مگر خدا تعالیٰ نے رحم کیا اور ہم بٹالہ پہنچ گئے۔وہاں سڑک پر دیکھا کہ ایک ڈھیر لگا ہوا ہے اور اس میں سینکڑوں قرآن شریف پڑے ہوئے ہیں۔ہم نے وہاں سے چند قرآن شریف اٹھائے۔بٹالہ میں قافلہ کوروکا گیا۔بڑی دیر میں چلنے کی اجازت ملی۔ہم نے خدا تعالیٰ کا شکر کیا اور روانہ ہوئے۔امرتسر پہنچے تو وہاں بڑی دیر لگی۔وہاں سے چلے تو راستہ میں چھ بسوں میں سے ایک خراب ہو گئی۔غرض خدا خدا کر کے لاہور بارڈر پر پہنچے تو یوں معلوم ہوتا تھا کہ گویا جنت میں آگئے ہیں۔رات کے دس بجے ہم جو دھامل بلڈنگ پہنچے۔الحمد للہ ثم لحمد للہ۔(23) قادیان سے دفاتر کا عملہ ریکارڈ اور دستاویزات کا لا ہور منتقل کیا جانا شروع شروع میں جب سید نا حضرت خلیفۃالمسیح الثانی نے لاہور ہجرت کی اس وقت دفتر محاسب کے چند رجسٹروں یا بعض دیگر ضروری کاغذات کے سوا کوئی خاص ریکارڈ قادیان سے نہیں لا یا گیا تھا۔اب جب کہ صدر انجمن احمد یہ پاکستان کا قیام لاہور میں ہو گیا تو اس بات کی بھی ضرورت ہوئی کہ قادیان سے مزید عملہ اور ریکارڈ منگوایا جائے۔گو کہ ماہ ستمبر کے دوران مختلف وقتوں میں سلسلہ کے مرکزی دفاتر کے بعض