تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 94 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 94

جلد اوّل 78 تاریخ احمدیت بھارت کہ مجھے ایک شخص نے یہ کہہ کر پارسل بطور امانت دیا ہے کہ اس میں تین سلاخیں سونے کی ہیں۔اس نے پارسل کھولا اور میری طرف مخاطب ہو کر کہا یہ دیکھ لی میں آپ کی سونے کی سلاخیں آپ کو واپس دے رہا ہوں“۔اور پھر بس کے اندر دوسرے سامان کو چیک کرنے لگا۔اس میں فضل عمر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے جستی ٹرنک اور بڑے بڑےصندوق تھے۔ان میں کتابیں ہی کتابیں تھیں۔وہ جس صندوق کو کھولتا اوپر سے نیچے تک چیک کرتا کہ کتابوں کے علاوہ کوئی اور چیز اسلحہ وغیرہ تو نہیں۔جب وہ دو تین ٹرنک دیکھ چکا اور اس کو اطمینان ہو گیا تو میری طرف آیا اور جہاں میرے والے امانتوں کے جستی ٹرنک تھے ان کو دیکھ کر از خودہی کہنے لگا یہ بھی ریسرچ کا ہی سامان ہے اور اس نے قافلہ کو جانے کی اجازت دے دی۔بسیں روانہ ہوئیں۔میں نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔کیونکہ میرے ساتھ جو امانت کے ٹرنک جارہے تھے ان میں لاکھوں روپے کی ڈبیاں اور پارسل تھے۔کسی کے زرو جواہر کسی کے زیورات کسی میں پونڈ وغیرہ واللہ اعلم کیا کچھ نہ تھا۔اور اگر اس افسر کو شبہ بھی ہو جاتا کہ ان ٹرنکوں میں لاکھوں کا مال ہے تو وہ ضرور روک لیتا اور ٹرنک کھلواتا اور اندر سے ہر ایک ڈبا کھولتا تو خدا جانے وہ لالچ میں آکر کہتا کہ ہم جانے نہیں دیں گے۔بھارت سرکار کور پورٹ ہوگی۔اگر سرکار نے اجازت دی تو یہ مال جائے گا ورنہ نہیں۔یہ ایسی مصیبت تھی جس کے تصور سے ہی میری جان پر بن جاتی تھی کہ کسی کو میری بات کا یقین کیسے آئے گا کہ یہ مال فلاں نے لے لیاہے نہ مجھے کوئی رسید دی جائے گی نہ کوئی اور صورت اطمینان کی ہوگی۔مگر میں اپنے خدا پر قربان جاؤں کہ حضرت خلیفہ اسیح کی توجہ سے یہ مشکل یوں ہل ہوئی کہ فوجی افسر نے بغیر دیکھے ہی سمجھ لیا کہ یہ ریسرچ کا سامان ہے اور چونکہ وہ ریسرچ کے ٹرنک دیکھ کر اطمینان کر چکا تھا کہ ان میں کتابیں ہیں اور کچھ نہیں اس لئے اس نے یہی گمان کیا کہ ان میں بھی کتابیں ہیں۔یہ کس قسم کا زمانہ تھا اور کسی مصیبت کا وقت تھا۔جن لوگوں نے وہ مصیبت نہیں دیکھی وہ اس کا قیاس بھی نہیں کر سکتے اور میں نے چونکہ یہ نظارے دیکھے تھے اس لئے میرے دل پر یہی اثر ہے کہ یہ محض خدا کا رحم اور فضل تھا جو حضرت خلیفہ ثانی کی توجہ اور دعاؤں سے مجھ پر ہوا۔کیونکہ حضور چاہتے تھے کہ امانتیں لاہور پہنچ جائیں اور اس پر زور دیتے تھے۔جیسا کہ میں نے سنا ہے یہ کہتے ہوئے کہ حضرت نبی کریم سالی تم نے جب ہجرت فرمائی تو حضرت علی کو حکم دیا تھا کہ امانتیں جلد مدینہ بھجوائی جائیں۔یہ تڑپ تھی جو احمدیوں کا مال بچا کر لانے کا ذریعہ بن گئی ورنہ بظاہر مجھے کوئی صورت نظر نہ آتی جب ہمارا قافلہ موضع مقتلے کی نہر کے پل پر پہنچا تو بس کے کلینر نے شور کرنا شروع کر دیا کہ سر